خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد 16 305 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 دوسری خصوصیت ان کی یہ تھی کہ کتاب اصحاب احمد میں لکھا ہے کہ سیٹھ محمد غوث گزشتہ 42 سال سے وہ پہلے خوش قسمت انسان ہیں جن کا جنازہ آج ٹھیک اسی جگہ اور اسی حلقہ میں پڑھا جا رہا ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جسد اطہر رکھا گیا تھا۔اس موقع پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے ایک سٹول یا کرسی پر کھڑے ہو کر بآواز بلند اس کی ایک شہادت بھی دی تھی۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 9 صفحہ 268-269 سیرت حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی) امد الحئی صاحبہ کے نکاح کے وقت گو کہ آپ کے والد موجود تھے مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے والد کی خواہش پر خود ان کے ولی بنے اور نکاح پڑھایا اور اپنے خطبہ میں فرمایا کہ سیٹھ صاحب کی " چھوٹی لڑکی امتہ الحئی کے نکاح کا اعلان میں اس وقت کر رہا ہوں جو خان صاحب ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب کے ایک قریبی عزیز اور شاید بھانجے محمد یونس صاحب کے ساتھ قرار پایا ہے۔اس رشتہ میں بھی سیٹھ صاحب نے اخلاص مد نظر رکھا ہے۔تمدن کے اختلاف کی وجہ سے میں ان کو لکھتا تھا کہ حیدرآباد میں ہی رشتہ کریں مگر ان کی خواہش تھی کہ قادیان یا پنجاب میں ہی رشتہ ہو تا قادیان آنے کے لئے ایک اور تحریک ان کے لئے پیدا ہو جائے۔محمد یونس صاحب ضلع کرنال کے رہنے والے ہیں جو دہلی کے ساتھ لگتا ہے مگر حیدرآباد کی نسبت قادیان سے بہت نزدیک ہے۔سیٹھ صاحب کا خاندان ایک مخلص خاندان ہے۔ان کی مستورات کے ہمارے خاندان کی مستورات، ان کی لڑکیوں کے میری لڑکیوں سے اور ان کے اور ان کے لڑکوں کے میرے ساتھ ایسے مخلصانہ تعلقات ہیں کہ گویا خانہ واحد والا معاملہ ہے۔ہم ان سے اور وہ ہم سے بے تکلف ہیں اور ایک دوسرے کی شادی و غمی کو اسی طرح محسوس کرتے ہیں جیسے اپنے خاندان کی شادی و غمی کو۔ان کی لڑکی امتہ الحئی کا نکاح ایک ہزار روپیہ مہر پر محمد یونس صاحب ولد عبد العزیز صاحب ساکن لاڈوہ ضلع کرنال کے ساتھ قرار پایا ہے۔" خلیفہ ثانی فرماتے ہیں کہ " سیٹھ صاحب نے لڑکی کی طرف سے مجھے ولی مقرر کیا ہے۔" (خطبات محمود ( خطبات نکاح ) جلد 3 صفحہ 553) امتہ الحئی صاحبہ صوم وصلوٰۃ کی پابند ، دعا گو ، خلافت کی اطاعت گزار ، بڑا اخلاص رکھنے والی تھیں۔مجھے بھی ملنے آیا کرتی تھیں۔باوجو د بڑھاپے کے یہاں آتی تھیں اور بڑے اخلاص کا اظہار کرتی تھیں۔بہت نیک اور صالحہ خاتون تھیں۔موصیہ تھیں۔پسماندگان میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے اور کثیر تعداد میں پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں یاد گار چھوڑے ہیں۔آپ محمد اور میں صاحب حیدرآبادی (آف جرمنی) کی والدہ تھیں۔ان کے ایک پوتے مصور صاحب یہاں بھی ہیں۔خدام الاحمدیہ میں کام کرتے ہیں۔اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں کو بھی خلافت سے سچا اور حقیقی تعلق قائم رکھنے کی توفیق دے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 20 جولائی 2018 ء تا 26 جولائی 2018ء جلد 25 شماره 29 صفحہ 09:05)