خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 304
خطبات مسرور جلد 16 304 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 انسان ثابت ہوئے۔خلافت سے بے پناہ محبت اور گہری وابستگی تھی۔شہید مرحوم نے گھر میں ایم ٹی اے دیکھنے کے لئے ڈش انٹینا لگارکھا تھا تا کہ خود بھی اور اپنے گھر والوں کو بھی خلافت کے ساتھ وابستہ رکھیں۔چندوں اور دیگر مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے تھے۔صدر حلقہ کی عاملہ میں سیکرٹری سمعی بصری کے طور پر خدمت کر رہے تھے اور لوگوں کا ڈش انٹینا بھی بغیر معاوضہ کے ٹھیک کر دیتے تھے۔قاضی صاحب کی شادی ان کی کزن سے ہوئی تھی۔دونوں خاندانوں میں صرف قاضی صاحب، ان کی اہلیہ اور بچے ہی احمدی تھے۔فیملی کے دیگر افراد ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے ان کے مخالف ہو گئے۔چند ماہ قبل قاضی صاحب کا برادر نسبتی ان کے گھر آیا اور کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم لوگ مرزائی ہو گئے ہو۔اسی دوران اس کی نظر چھت پر لگے ڈش انٹینا پر پڑی تو اسے توڑنے لگا۔قاضی صاحب نے اس کو روکا تو آپس میں ان کی تلخ کلامی بھی ہوئی۔بہر حال اس کے بعد ان کے برادر نسبتی نے اپنی بہن سے کہا کہ تمہارا نکاح ٹوٹ چکا ہے۔اس لئے تم میرے ساتھ چلو کیونکہ یہ تمہارا خاوند تو مرزائی ہو گیا ہے۔اس پر قاضی صاحب مرحوم کی اہلیہ نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں خود بھی احمدی ہوں اور مسلمان ہوں اور قاضی صاحب کو بھی مسلمان سمجھتی ہوں۔میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی۔ان کی اہلیہ نے بتایا کہ شہید مرحوم کو مخالفین کی طرف سے دھمکیاں دی جارہی تھیں جن کی وجہ سے وہ کافی پریشان تھے اور کچھ دنوں سے خاموش تھے اور گھر سے باہر کم نکلتے تھے۔مکرم قاضی صاحب شہید نے اپنی اہلیہ کو بھی کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو سب سے پہلے صدر صاحب حلقہ کو اطلاع کرنا۔چنانچہ انہوں نے واقعہ شہادت کے بعد ایسا ہی کیا اور جماعت کے عہدیداران کو اطلاع کی اور نہایت استقامت دکھاتے ہوئے باوجود اس کے کہ ان کے غیر از جماعت رشتہ دار بھی آئے ہوئے تھے ان کی اہلیہ نے کہا کہ جنازہ احمدی پڑھیں گے اور تدفین بھی احمدی کریں گے۔قاضی صاحب کے چند غیر احمدی عزیز و اقارب ان کی وفات پر مسجد بیت النور میں بھی آئے لیکن انہوں نے نماز جنازہ نہیں پڑھی۔قاضی صاحب کی اہلیہ اور بچیاں بھی جنازہ کے ساتھ قبرستان تک گئیں۔شہید مرحوم نے لواحقین میں اہلیہ مکرمہ شہناز شعبان صاحبہ 40 سال ان کی عمر ہے اور تین بیٹیاں عزیزہ کرن 19 سال، سدرہ شعبان 18 سال اور ملائکہ 11 سال چھوڑی ہیں۔یہ تینوں بیٹیاں پولیو کی وجہ سے کچھ معذور بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کا خود ہی کفیل ہو اور ان کو ہر پریشانی سے بچا کے رکھے اور قاضی صاحب کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔دوسرا جنازہ جو حاضر جنازہ ہے وہ محترمہ امتہ الحئی بیگم صاحبہ بنت سیٹھ محمد غوث صاحب کا ہے۔23 جون کو سو سال سے اوپر کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کے والد سیٹھ محمد غوث صاحب کی دو خصوصیات ہیں۔ایک یہ کہ اگر چہ وہ صحابی تو نہیں تھے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں بہشتی مقبرہ قادیان میں صحابہ کے قطعہ میں دفن کرنے کی اجازت دی تھی۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 14 صفحہ 211)