خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 303
خطبات مسرور جلد 16 303 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 ابولبابہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ حضرت ابولبابہ نے کہا کہ یارسول اللہ میر انواسہ ہے۔میں نے اس جیسا کمزور نو مولود کبھی نہیں دیکھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نومولود کو اٹھایا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔اس دعا کی برکت سے جب عبد الرحمن بن زید لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہوتے تو قد میں سب سے لمبے نظر آتے تھے۔حضرت عمر نے ان کی شادی اپنی بیٹی فاطمہ سے جو حضرت اُم کلثوم کے بطن سے تھیں اور حضرت اُمّ کلثوم حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی بیٹی تھیں، کروائی تھی۔امتاع الاسماع جلد 6 صفحہ 146 فصل فی ذکر اسلافه الا الله من قبل حفصة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1999ء) حضرت انس بن مالک نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمیوں کے گھر سب سے زیادہ دور تھے۔ایک حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر کا۔ان کا گھر قبا میں تھا اور حضرت ابو عبس بن جبر۔یہ قبیلہ بنو حارثہ میں رہتے تھے۔وہ دونوں عصر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔(مستدرك على الصحيحين جلد اوّل صفحہ 309 کتاب الصلوة باب مواقيت الصلوة حديث 703 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) تو یہ ان صحابہ کے حالات تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔جمعہ کی نماز کے بعد میں دو جنازے پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ حاضر ہے۔ایک غائب ہے۔جنازہ غائب مکرم قاضی شعبان احمد خان صاحب شہید کا ہے۔ساکن سر و با گارڈن لاہور۔قاضی شعبان احمد سلیمان خان صاحب ابن قاضی محمد سلیمان صاحب کو 25 جون 2018ء کو ان کو مخالفین نے ان کے گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ - 47 سال ان کی عمر تھی۔تفصیلات کے مطابق 25 جون کی رات نقاب پہنے ہوئے دو افراد گھر میں داخل ہوئے۔قاضی صاحب اور ان کی اہلیہ ایک کمرے میں تھے جبکہ ان کی بیٹیاں دوسرے کمرے میں تھیں۔قاضی صاحب کی اہلیہ واش روم میں تھیں۔جب وہ باہر نکلیں تو باہر دو نقاب پوش افراد موجود تھے۔ان نقاب پوش افراد میں سے ایک نے قاضی صاحب کی اہلیہ کے سر پر پستول تانی اور ان کو دوسرے کمرے میں لے گیا پر اور ان کو جہاں ان کی بیٹیاں موجود تھیں۔جبکہ دوسرا شخص قاضی صاحب کے کمرے میں ہی تھا اس نے تین گولیاں قاضی صاحب کے پیٹ میں ماریں جن سے موقع پر ان کی شہادت ہو گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔شہید مرحوم نے 2001ء میں اپنے ایک دوست محمد اقبال صاحب کے ذریعہ بمع اہل و عیال بیعت کی تھی۔قاضی صاحب مظفر آباد (کشمیر) کے رہنے والے تھے۔2001ء میں نشتر کالونی سر و با گارڈن لاہور میں شفٹ ہوئے اور اس سے کچھ عرصہ قبل ٹاؤن شپ لاہور میں بھی رہے۔قاضی شعبان صاحب معذور بچوں کا سکول چلا رہے تھے اور ان کی اپنی رہائش سکول کی بالائی منزل پر تھی۔آج کل ان کے گھر کے نچلے حصہ میں سکول کی تعمیرات کا کام ہو رہا تھا اور شٹرنگ ہو رہی تھی۔اسی شٹرنگ میں یہ نقاب پوش افراد پہلے آ کے چھپ گئے اور پھر موقع پا کر حملہ کیا۔شہید مرحوم بے شمار خوبیوں کے حامل تھے۔بیعت کے بعد مکرم قاضی صاحب بہت ہی مخلص اور نیک