خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 302
خطبات مسرور جلد 16 302 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی جو کہا جاتا ہے کہ آپ نے زیادتیاں کیں اور ظلم کئے اور یہودی قبائل کو قتل کیا تو یہ تو خود اپنی تباہی کے ذمہ وار تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کروانے کے بجائے انہوں نے اپنے ایک سردار سے، دوسرے قبیلہ کے سردار سے جو مسلمان ہو چکے تھے ان سے فیصلہ کروایا اور پھر ان کی کتاب کے مطابق یہ فیصلہ ہوا۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی الزام نہیں۔نہ صحابہ پر ہے کہ انہوں نے کوئی ظلم کیا۔علامہ ابن سعد نے لکھا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ غزوہ قینقاع اور غزوہ سویق میں بھی حضرت ابولبابہ کو مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا شرف حاصل ہوا ہے۔(الطبقات الكبرى جلد 2 صفحہ 22 باب غزوہ قینقاع و غزوہ سویق مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت ابولبابہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے۔انصار کے قبیلہ عمرو بن عوف کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا۔حضرت ابو لبابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 349 واخوهما ابو لبابه بن عبد المنخر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) ان کی وفات کے بارے میں بعض کے نزدیک حضرت ابولبابہ حضرت علیؓ کے زمانہ خلافت میں فوت ہوئے۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد وفات پائی۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ 50 ہجری کے بعد تک زندہ رہے۔(الاصابة في تمييز الصحابه جلد 7 صفحہ 290 بو لبابه بن عبد المنذر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن بارش کی دعا کی اور فرمایا اللهُمَّ اسْقِنَا اللهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا۔کہ اے اللہ ہم پر بارش برسا اے اللہ ! ہم پر بارش برسا اے اللہ ! ہم پر بارش برسا۔ابو لبابہ کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ پھل باغوں میں ہے۔راوی کہتے ہیں کہ آسمان میں ہمیں کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! ہم پر بارش برسا یہاں تک کہ ابو لبابہ نگے بدن اپنے کھلیان میں پانی کا سوراخ اپنے کپڑے سے بند کرے۔کہتے ہیں کہ دعا کے بعد آسمان سے پانی برسنا شروع ہو گیا۔بادل آئے۔بارش شروع ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔راوی کہتے ہیں کہ انصار حضرت ابو لبابہ کے پاس آکر کہنے لگے کہ اے ابو لبابہ ! اللہ کی قسم یہ بارش اس وقت تک نہیں رکے گی جب تک تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ننگے بدن اپنے کپڑے کے ذریعہ اپنے کھلیان سے پانی کے نکاس کا راستہ نہیں روکو گے۔چنانچہ حضرت ابولبابہ اپنے کپڑے کے ذریعہ نکاس کا راستہ بند کرنے کھڑے ہو گئے اور اس کے بعد بارش رک گئی۔(السنن الكبرى للبيهقى جلد 3 صفحہ 500 كتاب صلاة الاستسقاء باب الاستسقاء بغير صلاة و يوم الجمعة على المنبر حديث 6530 مطبوعه مكتبه الرشد ناشرون رياض 2004ء) حضرت ابولبابہ اپنے نواسے عبد الرحمن بن زید (جو حضرت عمرؓ کے بھتیجے تھے ) کو ایک کھجور کی چھال میں لپیٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے