خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 301
خطبات مسرور جلد 16 301 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 ہو گئے اور مسلمانوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی حتی کہ ان کی عورتیں بھی لڑائی میں شریک ہوئیں۔چنانچہ قلعہ کی دیوار کے نیچے کچھ مسلمان بیٹھے تھے کہ ایک یہودی عورت نے اوپر سے پتھر پھینک کر ایک مسلمان کو مار دیا۔لیکن کچھ دن کے محاصرہ کے بعد یہود نے یہ محسوس کر لیا کہ وہ لمبا مقابلہ نہیں کر سکتے۔تب ان کے سر داروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش کی کہ وہ ابو لبابہ انصاری کو جو اُن کے دوست اوس قبیلہ کے سردار تھے ان کے پاس بھجوائیں تاکہ وہ ان سے مشورہ کر سکیں۔آپ نے ابو لبابہ کو بھجوا دیا۔ان سے یہود نے یہ مشورہ پوچھا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مطالبہ کو کہ فیصلہ میرے سپر د کرتے ہوئے تم ہتھیار پھینک دو۔ہم یہ مان لیں ؟ ابو لبابہ نے منہ سے تو کہا ہاں لیکن اپنے گلے پر اس طرح ہاتھ پھیرا جس طرح قتل کی علامت ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک اپنا کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ابو لبابہ نے اپنے دل میں یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے جرم کی سزا سوائے قتل کے اور کیا ہو گی بغیر سوچے سمجھے اشارے کے ساتھ ان سے ایک بات کہہ دی جو آخر ان کی تباہی کا موجب ہوئی۔چنانچہ یہود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کرنے سے انکار کر دیا۔اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ مان لیتے تو دوسرے یہودی قبائل کی طرح ان کو زیادہ سے زیادہ یہی سزا دی جاتی کہ ان کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا جاتا مگر ان کی بد قسمتی تھی کہ انہوں نے کہا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ ہم اپنے حلیف قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ کا فیصلہ مانیں گے۔جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا۔لیکن اس وقت یہود میں اختلاف ہو گیا۔یہود میں سے بعض نے کہا کہ ہماری قوم نے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے رویے سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے۔وہ لوگ اپنا مذ ہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔ایک شخص عمرو بن سعدی نے جو اس قوم کے سرداروں میں سے تھا اپنی قوم کو ملامت کی اور کہا کہ تم نے غداری کی ہے کہ معاہدہ توڑا ہے۔اب یا تو مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ پر راضی ہو جاؤ۔یہود نے کہا نہ مسلمان ہوں گے نہ جزیہ دیں گے کہ اس سے قتل ہونا اچھا ہے۔پھر ان سے اس نے کہا کہ میں تم سے بری ہو تا ہوں اور یہ کہہ کر قلعہ سے نکل کر باہر چل دیا۔جب وہ قلعہ سے باہر نکل رہا تھا تو مسلمانوں کے ایک دستہ نے جس کے سردار محمد بن مسلمین تھے اسے دیکھ لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے ؟ اس نے بتایا کہ میں فلاں ہوں۔اس پر محمد بن مسلمہ نے فرمایا کہ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنِي إِقَالَةَ عَشَرَاتِ الكِرَامِ۔یعنی اپنی سلامتی سے چلے جائیے اور پھر اللہ سے دعا کی کہ الہی مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔یعنی یہ شخص چونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اسے معاف کر دیں اس لئے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا۔خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشتار ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے محمد بن مسلمہ کو سر زنش نہیں کی کہ کیوں اس یہودی کو چھوڑ دیا بلکہ اس کے فعل کو سراہا۔(ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 282 تا284)