خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 300 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 300

خطبات مسرور جلد 16 300 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 پر ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو لبابہ کی توبہ قبول ہو گئی۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کو آگاہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر تم چاہتی ہو تو کر دو۔حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے حجرہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہلا یہ پردے کے احکام نازل ہونے سے قبل کی بات ہے ) کہ اے ابو لبابہ خوش ہو جاؤ۔اللہ نے آپ پر فضل کرتے ہوئے آپ کی توبہ قبول کرلی ہے۔لوگ دوڑ کر حضرت ابو لبابہ کو کھولنے لگے۔لیکن انہوں نے کہا کہ نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی مجھے کھو لیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے تو اپنے دست مبارک سے ان کو کھولا۔حضرت ابو لبابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں اپنے آبائی گھر کو جہاں مجھ سے یہ گناہ سر زد ہوا ہے چھوڑتا ہوں۔یہ بہت بڑی غلط بات مجھ سے ہو گئی اس لئے میں اپنا گھر بار چھوڑتا ہوں اور میں اپنے مال کو اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ صرف ایک تہائی مال کا صدقہ کرو۔حضرت ابولبابہ نے ایک تہائی مال صدقہ کیا اور آپ نے اپنا آبائی گھر چھوڑ دیا۔علیہ (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 597 تا 599) (اسد الغابہ جلد 6 صفحہ 261 262 ابو لبابة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت ، كتاب المغازی جلد 2 صفحہ 11-12 غزوہ بنی قریظه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2004ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس تفصیل کے علاوہ بھی اس واقعہ کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بنو قریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔ان کی غداری ایسی نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ وسلم نے واپس آتے ہی اپنے صحابہ سے فرمایا کہ گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنو قریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ اور پھر آپ نے حضرت علی کو بنو قریظہ کے پاس بھجوایا کہ وہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے معاہدہ کے خلاف یہ غداری کیوں کی ہے۔بیچ میں چھوڑ کے چلے گئے تھے۔بجائے اس کے کہ بنو قریظہ شر مندہ ہوتے یا معافی مانگتے یا کوئی معذرت کرتے انہوں نے حضرت علی اور ان کے ساتھیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کی مستورات کو گالیاں دینے لگے اور کہا ہم نہیں جانتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا چیز ہیں۔ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں۔حضرت علی ان کا یہ جواب لے کر واپس لوٹے تو اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ یہود کے قلعوں کی طرف جارہے تھے۔چونکہ یہود گندی گالیاں دے رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور بیٹیوں کے متعلق نا پاک کلمات بول رہے تھے۔حضرت علی نے اس خیال سے کہ آپ کو ان خیالات سے تکلیف ہو گی عرض کیا یارسول اللہ ! آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں۔ہم لوگ اس لڑائی کے لئے کافی ہیں۔آپ واپس تشریف لے جائیں۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں اور تم یہ نہیں چاہتے کہ میرے کان میں وہ گالیاں پڑیں۔حضرت علی نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! بات تو یہی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا ہوا اگر وہ گالیاں دیتے ہیں۔موسیٰ نبی تو ان کا اپنا تھا ان کو اس سے بھی زیادہ انہوں نے تکلیفیں پہنچائی تھیں۔یہ کہتے ہوئے آپ یہود کے قلعوں کی طرف چلے گئے مگر یہود دروازے بند کر کے قلعہ بند