خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 299
299 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 خطبات مسرور جلد 16 اور اپنی بے بسی کا احساس ہونا شروع ہوا کہ مسلمانوں نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا تھا) اور بالآخر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔(بہر حال) انہوں نے یہ تجویز کی کہ کسی ایسے مسلمان کو جو اُن سے تعلقات رکھتا ہو اور اپنی سادگی کی وجہ سے ان کے داؤ میں آسکتا ہو اپنے قلعہ میں بلائیں اور اس سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے متعلق کیا ارادہ ہے تا کہ وہ اس کی روشنی میں آئندہ طریق عمل تجویز کر سکیں۔چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اینچی روانہ کر کے یہ درخواست کی کہ ابو لبابہ بن منذر انصاری کو ان کے قلعہ میں بھجوایا جاوے تاکہ وہ اس سے مشورہ کر سکیں۔آپ نے ابو لبابہ کو اجازت دی اور وہ ان کے قلعہ میں چلے گئے۔اب رؤسائے بنو قریظہ نے یہ تجویز کی ہوئی تھی کہ جو نہی ابو لبابہ قلعہ کے اندر داخل ہو سب یہودی عورتیں اور بچے روتے چلاتے ان کے گرد جمع ہو جائیں اور اپنی مصیبت اور تکلیف کا ان کے دل پر پورا پورا اثر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ ابو لبابہ" پر یہ داؤ چل گیا اور بنو قریظہ کے سوال پر کہ اے ابولبابہ ! تو ہمارا کیا حال دیکھ رہا ہے ؟ کیا ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر اپنے قلعوں سے اتر آویں ؟ ابولبابہ نے بے ساختہ جواب دیا ہاں اتر آؤ۔مگر ساتھ ہی اپنے گلے پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے قتل کا حکم دیں گے۔حضرت ابولبابہ کہتے ہیں کہ جب یہ خیال آیا کہ میں نے خدا اور اس کے رسول کی خیانت کی ہے ( یاجو اشارہ کیا ہے تو غلط طریقہ سے کر دیا ہے ) تو میرے پیر لڑکھڑانے لگے۔آپ وہاں سے مسجد نبوی میں آئے ( ابولبابہ مسجد نبوی میں آئے ) اور مسجد کے ایک ستون سے اپنے آپ کو باندھ دیا کہ یہ میری سزا ہے ) اور کہا کہ جب تک خدا تعالیٰ میری توبہ قبول نہ کرے گا اسی طرح بند ھار ہوں گا۔حضرت ابولبابہ کہتے ہیں کہ میرے بنو قریظہ جانے اور جو کچھ میں نے وہاں کیا اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس کے بارے میں جو چاہے گا فرمائے گا۔اگر وہ میرے پاس آتا تو میں اس کے لئے بخشش طلب کرتا۔جب وہ میرے پاس نہیں آیا اور چلا گیا ہے تو اسے جانے دو۔حضرت ابو لبابہ کہتے ہیں کہ میں پندرہ دن اس ابتلا میں رہا۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے ایک خواب دیکھا تھا اور میں اسے یاد کرتا تھا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور گویا میں ایک بد بودار کیچڑ میں ہوں۔میں اس سے نکل نہیں سکتا اور قریب تھا کہ میں اس کی بد بو سے ہلاک ہو جاتا۔پھر میں نے ایک نہر دیکھی جو بہہ رہی تھی۔پھر میں نے دیکھا کہ میں اس میں غسل کر رہا ہوں یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ کو پاک صاف کیا اور تب مجھے خوشبو آرہی تھی۔آپ حضرت ابو بکر کے پاس اس کی تعبیر پوچھنے کے لئے گئے تھے تو حضرت ابو بکر نے اس کی تعبیر یہ کی کہ تمہیں ایسا معاملہ پیش آئے گا جس کی وجہ سے تمہیں غم پہنچے گا پھر تمہیں اس سے نجات دی جائے گی۔حضرت ابو لبابہ کہتے ہیں کہ میں بندھا ہوا حضرت ابو بکر کی بات کو یاد کر تا تھا اور امید رکھتا تھا کہ میری توبہ قبول کی جائے گی۔حضرت اُم سلمہ بیان کرتی ہیں کہ ابو لبابہ کے توبہ کی قبولیت کی خبر میرے گھر میں نازل ہوئی۔(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی اس وقت ہوئی)۔کہتی ہیں کہ میں نے سحر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنتے دیکھا۔میں نے عرض کیا اللہ آپ کو ہمیشہ مسکر اتار کھے آپ کس بات