خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 298
خطبات مسرور جلد 16 298 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 غزوہ بدر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی اور حضرت ابو لبابہ تینوں باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔حضرت علی اور حضرت ابو لبابہ نے بڑے اصرار سے عرض کیا کہ ہم پیدل چلتے ہیں اور حضور سوار رہیں۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مانا اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ تم دونوں چلنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں اور نہ ہی میں تم دونوں سے اجر کے بارے میں زیادہ بے نیاز ہوں۔الطبقات الكبرى جلد 2 صفحہ 15-16- غزوہ بدر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو اہل مدینہ کو خوشخبری پہنچانے کے لئے روانہ کیا۔حضرت زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر آئے تھے۔جب وہ مصلی ( نماز کی جو جگہ تھی) پہنچے تو آپ نے اپنی سواری سے بلند آواز سے کہا کہ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ ، حجاج کے بیٹے ابو جہل اور ابو البختری، زمعہ بن الاسود، امیہ بن خلف یہ سب مارے گئے ہیں اور سہیل بن عمر و اور بہت سارے قیدی بنالئے گئے ہیں۔لوگ زید بن حارثہ کی بات پر یقین نہیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ زید شکست کھا کر کوٹے ہیں اور اس بات نے مسلمانوں کو غصہ میں مبتلا کر دیا ہے۔(منافقین اور مخالفین جو تھے وہ یہ کہا کرتے تھے ) اور وہ خود خوفزدہ بھی ہو گئے ہیں (اس لئے یہ باتیں کر رہے ہیں۔منافقین میں سے ایک شخص نے حضرت اسامہ بن زید سے کہا کہ تمہارے آقا اور ان کے ساتھ جو گئے تھے وہ سب مارے جاچکے ہیں۔ایک شخص نے حضرت ابولبابہ سے کہا کہ تمہارے ساتھی اب اس طرح بکھر چکے ہیں کہ دوبارہ کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود اور آپ کے چوٹی کے اصحاب شہید ہو چکے ہیں اور یہ آپ کی اونٹنی ہے اور ہم اسے جانتے ہیں۔مخالفین کہنے لگے کہ زید کو تو رعب کی وجہ سے خود ہی پتہ نہیں کہ یہ کیا کہہ رہا ہے اور شکست کھا کے لوٹا ہے۔حضرت ابولبابہ نے کہا اللہ تعالیٰ تمہاری بات کو جھٹلائے گا۔یہود بھی یہی کہتے تھے کہ زید ناکام و نامراد اور شکست کھا کر لوٹا ہے۔حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے علیحدگی میں دریافت کیا کہ اے ابا آپ جو کہتے ہیں کیا وہ سچ ہے۔حضرت زید نے کہا اے میرے بیٹے اللہ کی قسم ! جو میں کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے۔حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ اس سے میر ادل مضبوط ہو گیا۔(کتاب المغازی جلد اوّل صفحہ 114-113 بدر القتال مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2004ء) حضرت ابو لبابہ کی سادگی اور فدائیتِ رسول کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ 5 ہجری میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے فارغ ہو کر شہر میں واپس تشریف لائے تو ابھی آپ بمشکل ہتھیار وغیرہ اتار کر نہانے دھونے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کشفی رنگ میں یہ بتایا گیا کہ جب تک بنو قریظہ کی غداری اور بغاوت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا آپ کو ہتھیار نہیں اتارنے چاہئیں۔آپ نے صحابہ میں اعلان کر دیا کہ سب لوگ بنو قریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ ہو جائیں اور نماز عصر وہیں پہنچ کر ادا کی جائے گی۔شروع شروع میں تو یہودی لوگ سخت غرور اور تمرد ظاہر کرتے رہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کو محاصرہ کی سختی