خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 297
297 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 خطبات مسرور جلد 16 ایک جگہ لکھا ہے کہ حضرت عثمان کے خلاف جو فساد پیدا ہوا اور خلافت کے خلاف جو ساری باتیں پیدا ہوئیں تو یہ اس وجہ سے پیدا ہوئیں کہ ان لوگوں کی تربیت صحیح نہیں تھی اور بہت کم مرکز میں آیا کرتے تھے۔ان کو قرآن کریم کا علم بہت کم تھا۔دین کا علم بہت کم تھا۔اس لئے آپ نے جماعت کو اس وقت تلقین کی کہ اس چیز سے تم لوگوں کو عبرت اور نصیحت پکڑنی چاہئے۔اس لئے ایک تو یہ کہ قرآن کریم کا علم سیکھو۔مرکز سے ہمیشہ رابطہ رکھو اور دین کا علم سیکھو تا کہ اگر آئندہ بھی کسی بھی قسم کا کوئی فتنہ جماعت میں اٹھتا ہے تو تم لوگ ہمیشہ اس سے بچ سکو۔(ماخوذ از انوار خلافت ، انوار العلوم جلد 3 صفحہ 171-170) پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ہر کوئی نہ تو مرکز میں آسکتا ہے اور اس طرح خلافت کے ساتھ ذاتی تعلق قائم نہیں ہو سکتا۔لیکن ایک بات بہر حال ہے کہ دین کا علم سیکھنا، قرآن کریم کا علم سیکھنا یہ تو ہر ایک کے لئے اب میسر اور مہیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ہمیں ایک ایسا ذریعہ عطا فرما دیا ہے جس کے ذریعہ سے ہم اگر چاہیں تو دینی علم سیکھ سکتے ہیں۔قرآن کریم کے درس اس میں ہوتے ہیں۔حدیث کے درس ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے درس ہوتے ہیں۔خطبات ہیں۔دوسرے خطابات ہیں، جلسے ہیں، تو کم از کم اس لحاظ سے اگر ہم اپنے آپ کو بھی اور اپنی نسلوں کو بھی اس ذریعہ سے جوڑ لیں تو یہ تربیت کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہے۔خلافت سے تعلق قائم ہوتا ہے۔اور ہر قسم کے فتنہ اور فساد سے بچانے والا بھی ہے۔اور دینی علم بڑھانے والا بھی ہے۔اس لئے اس طرف افراد جماعت کو بہت توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ایم ٹی اے کا ذریعہ مہیا کیا ہے اس سے اپنے آپ کو جوڑیں۔حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر ایک اور صحابی ہیں ان کا ذکر بھی کچھ کروں گا۔حضرت ابو لبابہ کے نام کے بارے میں اختلاف ہے کہ ان کا نام بعض بشیر بتاتے ہیں۔اور ابن اسحاق کے نزدیک ان کا نام رفاعہ ہے۔علامہ زمخشری کے نزدیک ان کا نام مروان ہے۔بہر حال یہ انصار کے قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے اور بارہ نقیبوں میں سے تھے اور بیت عقبہ میں شامل ہوئے۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد7 صفحه: 289 290 ابو لبابة مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1995ء) غزوہ بدر کے موقع پر مدینہ سے نکلتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا امیر مقرر کیا لیکن جب آپ روحاء مقام کے قریب پہنچے جو مدینہ سے 36 میل کے فاصلہ پر تو غالباً اس خیال سے کہ عبد اللہ ایک نابینا آدمی ہے اور لشکر قریش کی آمد کی خبر کا تقاضا ہے کہ آپ کے پیچھے مدینہ کا انتظام بھی مضبوط رہے آپ نے حضرت ابو لبابہ بن منذر کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے واپس بھجوا دیا اور حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم کے متعلق حکم دیا کہ وہ صرف امام الصلوۃ رہیں مگر انتظامی کام حضرت ابو لبابہ سر انجام دیں۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 354) بہر حال اس طرح یہ آدھے راستے سے واپس چلے گئے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں ان کا حصہ مقرر کیا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 7 صفحہ 290 ابو لبابه بن عبد المنذر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء)