خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 296
خطبات مسرور جلد 16 296 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 خیمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے کسی نیک آدمی کی صحبت میسر فرما۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابوہریرۃ کی صحبت میسر فرمائی۔حضرت ابو ہریرۃ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کن لوگوں میں سے ہو ؟ میں نے کہا میرا تعلق سر زمین کوفہ سے ہے۔میں علم اور بھلائی لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔حضرت ابو ہریرۃ نے کہا کہ کیا تمہارے ہاں مُجاب الدعوة ( جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ) حضرت سعد بن ابی وقاص، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی اور نعلین اٹھانے والے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دان حضرت حذیفہ بن یمان، اور عمار بن یاسر جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ فرمان جاری ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شیطان سے پناہ دے رکھی ہے، اور دو کتابوں انجیل اور قرآن کا علم رکھنے والے حضرت سلمان موجود نہیں ہیں ؟۔(المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحہ 481 كتاب معرفة الصحابه ذكر مناقب عمار بن یاسر حدیث 5746 مطبوعه دار الحرمين للطباعة والنشر والتوزيع مصر 1997ء) آپ نے یہ بات بیان فرمائی کہ جب یہ لوگ ہیں تو تم نے ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔محمد بن علی بن حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار سے فرمایا کیا میں تمہیں وہ دَم سکھاؤں جو جبرئیل نے مجھ پر کیا ہے ؟ حضرت عمار کہتے ہیں کہ میں نے کہا جی یارسول اللہ !۔کہتے ہیں کہ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دم سکھایا کہ بسم اللہ أَرْقِيْكَ وَاللَّهُ يَشْفِيْكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يؤذيك کہ میں اللہ کے نام سے شروع کر کے تمہیں دم کرتا ہوں اور اللہ تمہیں ہر اس بیماری سے شفا دے جو تمہیں تکلیف دے۔تم اسے پکڑ لو اور خوش ہو جاؤ۔(المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحہ 481-482 کتاب معرفة الصحابه ذكر مناقب عمار بن یاسر حدیث 5748 مطبوعه دار الحرمين للطباعة والنشر والتوزيع مصر 1997ء) حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت حضرت علی اور حضرت عمار اور حضرت سلمان اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مشتاق ہے۔الاستیعاب جلد 3 صفحہ 1138 عمار بن یاسر مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے درمیان کتنی دیر رہوں گا۔پس تم میرے بعد ان لوگوں کی اقتدا کرنا۔آپ نے ابو بکر اور عمرہ کی جانب اشارہ فرمایا۔اور عمار کے طریق کو اپنانا۔اور جو تمہیں ابن مسعودؓ بیان کریں ان کی تصدیق کرنا۔(سنن الترمذی ابواب المناقب باب مناقب عمار بن یاسر حدیث 3799) حضرت عمار کے تعلق سے ہی گزشتہ ہفتہ میں ذکر ہوا تھا کہ حضرت عمار مفسدین کے دھو کہ میں آگئے تھے۔جب حضرت عثمان نے انہیں گورنر کی تحقیق کرنے کے لئے بھیجا تھا تو آپ مفسدین کے گروہ کے پاس چلے گئے اور پوری طرح تحقیق نہیں ہوئی۔تو اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے