خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 295

خطبات مسرور جلد 16 295 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 اور دوسرا وہ آدمی اے علی جو تمہارے سر پر وار کرے گا اور تمہاری داڑھی کو خون سے تر کر دے گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 261 حدیث عمار بن یاسر حدیث 18511 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) ابو مجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار بن یاسر نے مختصر سی نماز پڑھی۔ان سے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو حضرت عمار نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں سر نمو بھی فرق نہیں کیا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 262 حدیث عمار بن یاسر حدیث 18514 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) اس روایت کی ایک تفصیل اس طرح بھی ملتی ہے۔ابو مجلز کے حوالے سے ہی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمار بن یاسر نے ہمیں بہت مختصر نماز پڑھائی۔لوگوں کو اس پر تعجب ہوا۔حضرت عمار نے کہا کہ کیا میں نے رکوع اور سجود مکمل نہیں کئے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔حضرت عمار نے کہا کہ میں نے اس میں ایک دعا کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے اور وہ دعا یہ ہے کہ اللهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِيْ أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا وَالْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنى وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَمِنْ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ- اللَّهُمَّ زَيَّنَّا بِزِيْنَةِ الْإِيْمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيَّيْنَ۔کہ اے اللہ ! غیب کا علم تجھے ہی ہے اور تمام مخلوق پر تیری قدرت ہی حاوی ہے۔تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میری زندگی میرے لئے بہتر ہے اور مجھے اس وقت وفات دے جب موت میرے لئے بہتر ہو۔اے اللہ ! میں غیب اور حاضر میں تجھ سے تیری خشیت کا طلبگار ہوں اور غضب اور رضا کی حالت میں کلمہ حق کہنے کی طاقت مانگتا ہوں اور تنگدستی اور فراخی میں میانہ روی اختیار کرنے اور تیرے چہرے پر پڑنے والی لذت والی نظر اور تیری لقا کا شوق تجھ سے مانگتا ہوں اور میں کسی تکلیف دہ امر اور گمراہ کر دینے والے فتنہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔اے اللہ ! ہمیں ایمان کی خوبصورتی کے ساتھ مزین کر دے اور ہمیں ہدایت پانے والے لوگوں کے لئے رہنما بنا دے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 262 حدیث عمار بن یاسر حدیث 18515 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر ہر جمعہ کو منبر پر سورۃ یسین کی تلاوت کرتے تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 193 عمار بن یاسر مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) حارث بن سوید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عمرؓ کے پاس حضرت عمار کی چغلی کھائی، شکایت کی۔حضرت عمار تک یہ بات پہنچی تو آپ نے اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور کہا اے اللہ ! اگر اس شخص نے مجھ پر جھوٹا افترا کیا ہے تو اس کو دنیا میں کشائش عطا کر اور اس کی آخرت لپیٹ دے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 194 عمار بن ياسر مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) ابو نوفل بن ابی عقرب کہتے ہیں کہ حضرت عمار بن یا سر سب سے زیادہ سکوت کرنے والے اور سب سے کم کلام کرنے والے تھے۔وہ کہا کرتے تھے کہ میں فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔میں فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 194 عمار بن ياسر مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1990ء)