خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 294
خطبات مسرور جلد 16 294 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 کو شہید کیا ہے ؟ ان کو تو حضرت علی نے اور ان کے ساتھیوں نے مروایا ہے جنہوں نے ان کو لا کر ہمارے نیزوں کے سامنے یا ہماری تلواروں کے سامنے ڈال دیا ہے۔(المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحہ 474 کتاب معرفة الصحابه ذكر مناقب عمار بن یاسر حدیث 5726 مطبوعه دار الحرمين للطباعة والنشر والتوزيع مصر 1997ء) بہر حال حضرت عمر و بن عاص میں ایک تو نیکی تھی جو اُن کو فکر پیدا ہوئی لیکن امیر معاویہ نے اس کو اتنی اہمیت نہیں دی۔بہر حال صحابہ کو بڑی فکر ہوا کرتی تھی جب ان کو کوئی روایت پہنچتی تھی یا خود انہوں نے کبھی سنا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بارے میں انذار فرمایا ہے یا کوئی خوشخبری دی۔حضرت عائشہ نے حضرت عمار کے متعلق فرمایا کہ " وہ ایڑھیوں سے لے کر اپنے سر کی چوٹی تک ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔" (فضائل صحابه از امام احمد بن حنبل صفحہ 20 5 فضائل سید نا عمار بن یاسر، مترجم نوید احمد بشار۔مطبوعہ بک کارنر پرنٹرز پبلشرز جہلم پاکستان 2016ء) حضرت خباب حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عمرؓ نے ان سے کہا کہ قریب ہو جاؤ۔اس مجلس کا آپ سے زیادہ کوئی حقدار نہیں سوائے عمار کے۔پھر حضرت خباب حضرت عمر کو اپنی کمر کے زخموں کے نشان دکھانے لگے جو انہیں مشرکین نے پہنچائے تھے۔(سنن ابن ماجه كتاب السنة باب فضائل خباب حدیث 153) حضرت عمران کی عزت افزائی فرمارہے تھے کیونکہ انہوں نے ابتدائی زمانے میں بہت تکلیفیں اٹھائیں اور ساتھ ہی حضرت عمار کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے بھی بہت زیادہ تکلیفیں اٹھائیں۔ایک روایت حضرت عمار کی حضرت علی کی شہادت کے بارے میں بھی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی سے متعلق ہے۔حضرت عمار بن یاسر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غزوہ ذات العشیرہ میں میں اور حضرت علی رفیق سفر تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر اپنا پڑاؤ ڈالا۔ہم نے بنو نذریج کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے باغات کے چشموں میں کام کر رہے تھے۔حضرت علی مجھ سے کہنے لگے کہ آؤ ان لوگوں کے پاس چل کر دیکھتے ہیں کہ یہ کس طرح کام کرتے ہیں۔چنانچہ ہم ان کے قریب چلے گئے۔تھوڑی دیر تک ہم نے ان کے کام کو دیکھا پھر ہمیں نیند آگئی۔چنانچہ میں اور حضرت علی واپس آگئے اور ایک باغ میں مٹی کے اوپر ہی لیٹ گئے۔اللہ کی قسم ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی آکر اٹھایا یا جگایا۔آپ ہمیں پاؤں سے ہلا رہے تھے اور ہم مٹی سے لت پت ہو چکے تھے۔اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اے ابوتراب ! اس مٹی کی وجہ سے جو اُن پر نظر آرہی تھی آپ نے ان کو ابوتراب کہا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دو آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں جو لوگوں میں سب سے زیادہ بد بخت ہیں۔ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ !۔آپ نے فرمایا ایک تو قوم ثمود کا وہ سرخ و سفید آدمی جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں