خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 293

خطبات مسرور جلد 16 293 26 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جون 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 29 جون 2018ء بمطابق 29 احسان 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں بیان کر رہا تھا۔ان کے بارے میں کچھ روایتیں اور تھیں وہ بھی میں آج بیان کروں گا۔حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس شخص سے اپنی وفات کے دن تک محبت کرتے رہے ہوں مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اسے دوزخ میں ڈال دے گا۔لوگوں نے کہا کہ ہم دیکھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت کرتے تھے اور تم کو عامل بناتے تھے۔حضرت عمرو بن عاص نے کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے محبت کرتے تھے یا میری تالیف قلب فرماتے تھے۔لیکن ہم آپ کو ایک شخص سے محبت کرتے دیکھتے تھے۔لوگوں نے کہا کہ وہ کون شخص ہے ؟ حضرت عمرو بن عاص نے کہا کہ عمار بن یاسر وہ شخص تھے جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ محبت کی۔لوگوں نے اس بات کو سن کے کہا کہ جنگ صفین میں تم لوگوں نے ہی تو انہیں شہید کیا تھا۔حضرت عمر و بن عاص اس وقت امیر معاویہ کی طرفداری میں تھے۔تو حضرت عمر و بن عاص نے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہم نے ہی انہیں قتل کیا ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کے متعلق گواہ ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے محبت کرتے تھے وہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت عمار بن یاسر تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 199 عمار بن یاسر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمار بن یاسر کو شہید کر دیا گیا تو عمرو بن حزم حضرت عمرو بن عاص کے پاس آئے اور کہا کہ عمار کو شہید کر دیا گیا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کو باغی گروہ شہید کرے گا۔تو حضرت عمر و گھبرا کر اٹھے اور حضرت معاویہ کے پاس گئے۔حضرت معاویہ نے پوچھا کہ خیریت تو ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت عمار بن یاسر کو شہید کر دیا گیا ہے۔حضرت معاویہ نے پوچھا کہ عمار کو شہید کر دیا گیا ہے تو پھر کیا ہوا؟ حضرت عمرو نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کو باغی گروہ قتل کرے گا اور معاویہ نے کہا کہ کیا ہم نے اس