خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 22

خطبات مسرور جلد 16 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 دہرایا کہ میں نے چاہا کہ کاش آج سے پہلے میں مسلمان نہ ہوتا۔اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عہد کر لیا کہ آئندہ کبھی بھی کسی شخص کو جو لا إلهَ إِلَّا اللهُ پڑھے گا قتل نہیں کروں گا۔(صحیح البخاری کتاب المغازی باب بعث النبی الله اسامه بن زيد۔۔۔الخ حديث 4269) (اسد الغابه جلد 1 صفحه 91-92 اسامه بن زید مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) دنیا میں اسلام کے نام پر ظلم : کاش کہ یہ باتیں آج کے مسلمانوں کو بھی سمجھ آجائیں۔اسلام کے نام پر غیروں پر توجو ظلم کر رہے ہیں وہ کر ہی رہے ہیں۔یہ اپنی جگہ پر ہے لیکن آپس میں مسلمان مسلمانوں کو قتل کر رہا ہے۔اب شام کی جنگ ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گذشتہ کئی سالوں میں جب سے یہ شروع ہوئی ہے لاکھوں لوگ وہاں قتل کر دیئے گئے ہیں۔مسلمان نے مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔جو کلمہ گو ہیں وہی دوسرے کو مار رہے ہیں یا اس کے نام پر مار رہے ہیں۔یمن میں کلمہ گوؤں کو مارا جا رہا ہے۔دوسرے ظلم روا ر کھے جا رہے ہیں۔ٹارچر دیئے جا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کو بھی عقل دے کہ صحابہ کی محبت اور رسول کی محبت کے صرف نعرے نہ لگائیں بلکہ ان کے عمل کے مطابق عمل کرنے والے بھی ہوں۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے نام پر اپنی اناؤں کی تسکین کر رہے ہیں۔ان کو اسلام کا، اسلام کی تعلیم تو الف ب کا بھی پتا نہیں ہے۔اپنی برتری ثابت کرنا ان کا کوشش ہے۔منہ پر تو اللہ تعالیٰ کا نام ہے لیکن دل میں صرف اور صرف ان کی اپنی ذات ہے۔دنیا میں اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی تقویٰ پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے۔پس ان مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہ ان کی تو اصلاح ہو نہیں سکتی جب تک یہ قبول نہ کریں، ہمیں شکر گزاری کرنی چاہئے اور شکر گزاری کے جذبات سے ہمیں بڑھنا چاہئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ اس رہنما کو مانا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام صادق بنا کر بھیجا۔آپ نے ہمیں صحابہ کے مقام کے بارے میں بھی بتایا اور ان کے پیچھے چلنے کے لئے بھی نصیحت فرمائی۔یہ بتایا کہ صحابہ کے نمونے کس قسم کے ہیں۔تمہیں انہیں اسوہ سمجھنا چاہئے اور ان کے پیچھے چلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس یہی ایک ذریعہ ہے جسے ہم اگر اپنے سامنے رکھیں اور آپ کی باتوں کو سمجھنے اور ان عمل کرنے کی کوشش کریں تو حقیقی مسلمان بھی بن سکتے ہیں۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اپنی خواہشوں اور اغراض سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا ہے وہ کچھ حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنا نقصان کرتا ہے۔لیکن جب وہ تمام نفسانی خواہشات اور اغراض سے الگ ہو جاوے اور خالی ہاتھ اور صافی قلب لے کر خدا تعالیٰ کے حضور جاوے تو خدا اس کو دیتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی دستگیری کرتا ہے۔مگر شرط یہی ہے کہ انسان مرنے کو تیار ہو جاوے اور اس کی راہ میں ذلت اور موت کو خیر باد کہنے والا بن جاوے۔" پھر آپ فرماتے ہیں: