خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد 16 21 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 لوگوں کو کھانا وغیرہ کھلاتے ہو مجھے ڈر ہے کہ اس میں اسراف نہ ہو تا ہو۔حضرت صہیب نے کہا کہ یہ جو میں کھانا کھلاتا ہوں یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق ہے۔آپ نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور سلام کو رواج دیتے ہیں۔لوگوں کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہنا یہ ایک نیکی ہے اور بہترین لوگوں کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نشانی بتائی ہے۔کہتے ہیں یہ نصیحت جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی جو مدینہ آنے پر آپ نے مجھے فرمائی تھی تو میں نے اس کو پہلے باندھ لیا ہے اور میں سوائے جائز حق کے مال خرچ نہیں کرتا، اسراف نہیں کرتا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 924 حدیث 24422 مسند صهيب بن سنان مطبوعه عالم الكتب العلمية بيروت 1998ء) حضرت صہیب کا مقام حضرت عمرؓ کی نظر میں بھی بہت بڑا تھا۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنا جنازہ حضرت مہیب سے پڑھوانے کی وصیت فرمائی تھی اور جب تک اگلا خلیفہ منتخب نہ ہو نمازوں کی امامت بھی یہی کرواتے رہے تھے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 423 عبيد الله بن عمر مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) حضرت اسامہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید کے بیٹے تھے۔حضرت اسامه وہ خوش قسمت تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیار کی سند دی تھی۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 91 اسامه بن زید مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اتنا پیار کرتے تھے کہ اسامہ خود بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین اور انہیں دونوں کو دونوں رانوں پر بٹھا لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے اللہ ! ان دونوں سے محبت کر۔میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں۔(المعجم الكبير للطبراني جلد 3 صفحه 47 حدیث 2642 مطبوعه دار احياء التراث العربی بیروت 2002ء) لیکن جہاں تربیت اور دین کا معاملہ ہے وہاں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں۔پھر وہ یہ ذاتی محبت ختم ہو جاتی ہے۔حضرت اسامہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھوٹی عمر کے تھے بلکہ وفات کے وقت بھی ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی۔لیکن بعض لڑائیوں میں شمولیت کا موقع انہیں ملا۔ایک واقعہ آتا ہے کہ جب جنگ میں ایک کافر اسامہ کے سامنے آیا تو اس نے فوراً کلمہ پڑھ دیا۔لیکن آپ نے اسے پھر بھی قتل کر دیا کہ موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھ رہا ہے۔حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے اس واقعہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کے کلمہ پڑھنے کے بعد بھی اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کی کہ اس نے محض بچنے کے لئے کلمہ پڑھا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا؟ اور پھر فرمایا کیا تو نے اسے کلمہ شہادت پڑھنے کے باوجود قتل کر دیا؟ اسامہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرہ اتنی بار