خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 291
خطبات مسرور جلد 16 291 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 دیں تب بھی میں یہی سمجھوں گا کہ ہم حق پر ہیں اور یہ لوگ غلطی پر ہیں۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 194 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) (المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 480 كتاب معرفة الصحابه ذكر مناقب عمار بن یاسر حدیث 5745 مطبوعه دار الحرمين للطباعة والنشر والتوزيع 1997ء) ابو البختری کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر نے کہا کہ میرے پینے کے لئے دودھ لاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ تم دنیا میں جو آخری مشروب پیو گے وہ دودھ ہو گا۔چنانچہ دودھ لایا گیا۔حضرت عمار نے دودھ پیا اور پھر آگے بڑھ کر لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 195 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عمار کے پاس دودھ لایا گیا تو حضرت عمار منسے اور کہا کہ مجھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سب سے آخری مشروب جو تم پیو گے وہ دودھ ہو گا۔(خوشی تھی کہ آج میں اس حالت میں شہید ہو رہا ہوں)۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 195 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت عمار بن یاسر نے جنگ صفین کے موقع پر فرمایا۔جنت تلواروں کی چمک کے نیچے ہے اور پیاسا چشمہ پر پہنچ جائے گا۔آج میں اپنے پیاروں سے ملوں گا۔آج میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گروہ سے ملوں گا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 195 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) عبدالرحمن بن آبزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر نے صفین کی طرف جاتے ہوئے دریائے فرات کے کنارے یہ کہا کہ اے اللہ ! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے آپ کو اس پہاڑ سے نیچے پھینک دوں تو میں ایسا کر گزرتا اور اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ تیری خوشنودی اس میں ہے کہ میں یہاں بہت بڑی آگ جلا کر اس میں اپنے آپ کو گرادوں تو میں ایسا ہی کرتا۔اے اللہ! اگر مجھے معلوم ہو تا کہ تیری خوشنودی اس میں ہے کہ میں اپنے آپ کو پانی میں گرا دوں اور اس میں اپنے آپ کو غرق کر دوں تو میں یہی کرتا۔میں صرف تیری رضا کی خاطر یہ جنگ کر رہا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے ناکام نہ کرنا اور میں صرف تیری رضا ہی چاہتا ہوں۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 195 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت عمار بن یاسر کو ابو غادیہ مزنی نے شہید کیا تھا اس نے انہیں ایک نیزہ مارا جس سے وہ گر پڑے۔پھر ایک اور شخص نے حضرت عمار پر حملہ کر کے ان کا سر کاٹ لیا اور پھر یہ دونوں جھگڑتے ہوئے معاویہ کے پاس آئے۔ہر شخص کہتا تھا کہ میں نے انہیں قتل کیا ہے۔حضرت عمرو بن عاص نے کہا ( یہ اس وقت معاویہ کے ساتھ تھے ، صحابی تھے لیکن اس وقت یہ بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے بہر حال معاویہ کے پاس تھے لیکن نیکی تھی جو اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے۔) حضرت عمرو بن العاص نے کہا کہ اللہ کی قسم دونوں صرف آگ کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں۔(یعنی انہوں نے حضرت عمار کو جو شہید کیا ہے اور ہر ایک جو کہتا ہے دعوی کر رہا ہے کہ میں نے شہید کیا ہے تو تم دونوں صرف آگ کے بارے میں جھگڑ رہے ہو۔) حضرت معاویہ نے حضرت عمرو بن عاص کی یہ بات سن لی۔جب دونوں