خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 290

خطبات مسرور جلد 16 290 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 ان کے ساتھ ہی آیا مگر کچھ دور تک آکر واپس چلا گیا اور اس فتنہ کے وقت مدینہ میں نہیں تھا۔تیسرے شخص عمار بن یا سٹر تھے۔یہ صحابہ میں سے تھے اور ان کے دھو کہ کھانے کی وجہ یہ تھی "، حضرت مصلح موعود نے اس کی وضاحت فرمائی ہے " کہ یہ سیاست سے باخبر نہ تھے۔"سیاست بالکل نہیں آتی تھی۔" جب حضرت عثمان نے ان کو مصر بھیجا کہ وہاں کے والی کے انتظام کے متعلق رپورٹ کریں تو عبد اللہ بن سبا نے ان کا استقبال کر کے ان کے خیالات کو مصر کے گورنر کے خلاف کر دیا اور چونکہ وہ گورنر ایسے لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ایام کفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت مخالفت کی تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لایا تھا اس لئے آپ بہت جلد ان لوگوں کے قبضے میں آ گئے " یعنی یہ گورنر کیونکہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کر چکا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی اس کی وجہ سے ان لوگوں نے، مخالفین نے، حضرت عثمان کے اور گورنر کے خلاف جو باتیں کیں تو آپ ان لوگوں کی باتوں میں آگئے اور سمجھا کہ یہ پہلے ہی مخالفت کر چکا ہے تو اب بھی شاید اس کے دل نے صحیح طرح اسلام قبول نہیں کیا اور یہ ایسی حرکتیں کرتا ہو گا۔بہر حال " والی کے خلاف بدظنی پیدا کرنے کے بعد آہستہ آہستہ حضرت عثمانؓ پر بھی انہوں نے ان کو بد ظن کر دیا مگر انہوں نے عملاً فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا کیونکہ باوجود اس کے کہ مدینہ پر حملہ کے وقت یہ مدینہ میں موجود تھے سوائے اس کے کہ اپنے گھر میں خاموش بیٹھے رہے ہوں اور ان مفسدوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے کوئی حصہ نہ لیا ہو عملی طور پر انہوں نے فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا۔" یہ ہے ان کی کمزوری کہ مدینہ میں ہونے کے باوجو د مفسدوں کے خلاف کوئی حصہ نہیں لیا۔ان کو روکا نہیں۔لیکن عملاً انہوں نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا " اور ان مفسدوں کی بد اعمالیوں سے ان کا دامن " اس لحاظ سے " بالکل ( اسلام میں اختلافات کا آغاز ، انوار العلوم جلد 4 صفحہ 314-315) پاک ہے۔" حضرت علی کے زمانہ خلافت میں حضرت عمار بن یاسر حضرت علی کے ہمراہ رہے اور ان کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شریک ہوئے۔ابو عبد الرحمن السلمی کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں ہم حضرت علی کے ساتھ تھے۔میں نے حضرت عمار بن یاسر کو دیکھا کہ وہ جس طرف بھی جاتے یا جس طرف بھی رُخ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان کے پیچھے جاتے گویا وہ ان کے لئے ایک جھنڈے کے طور پر تھے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 126 عمار بن ياسر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) عبد اللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ صفین میں میں نے حضرت عمار بن یاسر کو دیکھا۔( یہ وہ جنگ ہے جو حضرت علی اور امیر معاویہ، جو شام کا گورنر تھا، ان کے درمیان ہوئی تھی۔کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا) آپ بوڑھے ہو چکے تھے۔عبد اللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں۔طویل القامت تھے۔آپ کا رنگ گندم گوں تھا۔حضرت عمار کے ہاتھ میں نیزہ تھا آپ کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔حضرت عمار نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نے اس نیزے کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں۔یہ چوتھی جنگ ہے۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ لوگ ہمیں مار مار کر خنجر کی کھجور کی شاخوں تک پسپا کر