خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 289

خطبات مسرور جلد 16 289 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 کو امیر اور ابن مسعودؓ کو معلم اور وزیر مقرر کر کے بھیجتا ہوں۔بیت المال کا انتظام بھی ابن مسعودؓ کے سپر د کیا ہے۔یہ دونوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان معزز اصحاب میں سے ہیں جو غزوہ بدر میں شریک تھے۔اس لئے ان دونوں کی فرمانبرداری اور اطاعت اور پیروی کرو۔میں نے ابن ام عبد ( حضرت عبد اللہ بن مسعود) کے بارے میں تمہیں اپنے اوپر ترجیح دی ہے۔میں نے عثمان بن حنیف کو السواد ( عراق کا علاقہ جس کو بیان کیا گیا ہے کہ اس کی سرسبزی اور شادابی کی وجہ سے سواد کہا جاتا ہے) پر مامور کر کے بھیجا ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 193 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) پھر اہل کوفہ کی شکایت کی وجہ سے حضرت عمرؓ نے حضرت عمار بن یاسر کو معزول کر دیا۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے بعد میں ان سے پوچھا کہ کیا ہمارا تمہیں معزول کرنانا گوار تو نہیں گزرا تھا؟ حضرت عمار نے کہا کہ آپ نے کہا ہے، پوچھ لیا ہے تو مجھے تو اُس وقت بھی ناگوار معلوم ہوا تھا۔اچھا نہیں لگا تھا جب آپ نے مجھے عامل بنایا تھا لیکن بنادیا تھا۔اطاعت تھی اس لئے میں بن گیا۔اور اس وقت بھی ناگوار گزرا ہے جب مجھے معزول کیا گیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 194 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) ناگوار بیشک گزرا لیکن بولے نہیں اور ہٹنے پر بھی کامل اطاعت کی یہاں تک کہ جب حضرت عمرؓ نے خود پوچھا ہے تو پھر جو دل میں تھا جو سچائی تھی وہ بیان کر دیا۔حضرت عثمان کے خلاف فتنہ پھیلانے والے منافقین اور باغیوں نے جب مدینہ میں شورش برپا کی تو بد قسمتی سے اپنی سادگی کی وجہ سے حضرت عمار بن یاسر بھی ان کے جھانسے میں آگئے ، دھو کہ میں آگئے گو کہ عملی طور پر انہوں نے کسی بھی قسم کا ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ "صرف تین شخص مدینہ کے باشندے ان لوگوں کے ساتھ تھے۔ایک تو محمد بن ابی بکر جو حضرت ابو بکر کے لڑکے تھے اور مورخین کا خیال ہے کہ وہ بوجہ اس کے کہ لوگ ان کے باپ کے سبب ان کا ادب کرتے تھے ان کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ میں بھی کوئی حیثیت رکھتا ہوں ورنہ نہ ان کو دنیا میں کوئی سبقت حاصل تھی، نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، نہ بعد میں ہی خاص طور پر دینی تعلیم حاصل کی۔حجتہ الوداع کے ایام میں پیدا ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ابھی دودھ پیتے بچے تھے۔چوتھے سال ہی میں تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے اور اس بے نظیر انسان کی تربیت سے بھی فائدہ اٹھانے کا ان کو موقع نہیں ملا۔دوسرا شخص محمد بن ابی حذیفہ تھا۔یہ بھی صحابہ میں سے نہ تھا۔اس کے والد یمامہ کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور حضرت عثمان نے اس کی تربیت اپنے ذمہ لے لی تھی اور بچپن سے آپ نے اسے پالا تھا۔جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو اس نے آپ سے کوئی عہدہ طلب کیا۔آپ نے انکار کیا۔اس پر اس نے اجازت چاہی کہ میں کہیں باہر جا کر کوئی کام کروں۔آپ نے اجازت دے دی اور یہ مصر چلا گیا۔وہاں جاکر عبد اللہ بن سبا کے ساتھیوں سے مل کر حضرت عثمان کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا۔جب اہل مصر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تو یہ