خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 288
خطبات مسرور جلد 16 288 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 باوجود اس کے کہ صحابہ اس مہم کی تیاری کر رہے تھے لیکن یہ عام نہیں تھا کہ مکہ پر چڑھائی کی جارہی ہے۔اس موقع پر ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اپنی سادگی اور نادانی میں مکہ سے آئی ہوئی ایک عورت کے ہاتھ ایک خفیہ خط مکہ روانہ کر دیا جس میں مکہ پر حملہ کرنے کی ساری تیاریوں کا ذکر کر دیا۔وہ عورت خط لے کر چلی گئی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دے دی۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ہو دو تین افراد کے ساتھ جن میں حضرت عمار بن یاسر بھی شامل تھے اس عورت کا پیچھا کرنے اور وہ خط لینے کے لئے روانہ فرمایا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے ہیں کہ سارہ نام ایک عورت جو کہ مکہ میں رہتی تھی اور خاندان بنی ہاشم کے زیر سایہ پرورش پایا کرتی تھی ان ایام میں جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے واسطے کوچ کی تیاری کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو مسلمان ہو کر مکہ سے بھاگ آئی ہے۔اس نے جواب دیا کہ نہیں میں مسلمان ہو کر نہیں آئی بلکہ بات یہ ہے کہ میں اس وقت محتاج ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہمیشہ میری پرورش کیا کرتا ہے اس واسطے میں آپ کے پاس آئی ہوں تا کہ مجھے کچھ مالی امداد مل جائے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو فرمایا اور انہوں نے اس کو کچھ کپڑا اور روپیہ وغیرہ دیا جس کے بعد وہ واپس اپنے وطن کو روانہ ہو گئی۔جب روانہ ہونے لگی تو حاطب نے جو کہ اصحاب میں سے تھا اس کو دس درہم دیئے اور کہا کہ میں تجھے ایک خط دیتا ہوں۔یہ خط اہل مکہ کو دے دینا۔اس بات کو اس نے قبول کیا اور وہ خط بھی لے گئی۔اس خط میں حاطب نے اہل مکہ کو خبر کی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا ہے تم ہوشیار ہو جاؤ۔وہ عورت ہنوز مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی الہی خبر مل گئی کہ وہ ایک خط لے کر گئی ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بمعہ عمار اور ایک جماعت کے روانہ کر دیا کہ اس کو پکڑ کر اس سے خط لے لیں اور اگر نہ دے تو اسے ماریں۔چنانچہ اس جماعت نے اس کو راہ میں جا پکڑا۔اس نے انکار کیا اور قسم کھائی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں جس پر حضرت علی نے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ ہم کو جھوٹ نہیں کہا گیا۔بذریعہ وحی الہی کہ یہ خبر ملی ہے۔خط ضرور تیرے پاس ہے۔تلوار کے ڈر سے اس نے خط اپنے سر کے بالوں میں سے نکال دیا۔جب خط آگیا اور معلوم ہوا کہ وہ حاطب کی طرف سے ہے تو حاطب بلایا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تو نے کیا کیا؟ اس نے کہا مجھے خدا کی قسم ہے جب سے میں ایمان لایا ہوں کبھی کا فر نہیں ہوا۔بات صرف اتنی ہے کہ مکہ میں میرے قبائل کا کوئی حامی اور خبر گیر نہیں۔میں نے اس خط سے صرف یہ فائدہ حاصل کرنا چاہا تھا کہ کفار میرے قبائل کو دکھ نہ دیں۔حضرت عمرؓ نے چاہا کہ حاطب کو قتل کر دیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اصحاب بدر پر خوشنودی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کر وجو بھی ہو میں نے تمہیں بخش دیا۔" ( حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 528-529) تو یہ غلطی ان کی نادانستگی میں تھی۔نیت مسلمانوں کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔حضرت عمرؓ نے حضرت عمار بن یاسر کو ایک دفعہ کوفے کا والی بنایا اور اہل کوفہ کے نام حسب ذیل فرمان جاری فرمایا کہ امابغہ میں عمار بن یاسر