خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 287

خطبات مسرور جلد 16 287 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 اس کی تفصیل ایک جگہ اس طرح بیان ہوئی ہے۔آشتر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خالد بن ولید کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سریہ پر بھیجا۔(ایک جنگ میں ایک فوج بھیجی تھی۔) میرے ہمراہ حضرت عمار بن یاسر بھی تھے۔اس مہم کے دوران ہم ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جن میں ایک گھرانے نے اسلام کا ذکر کیا۔حضرت عمار نے کہا یہ لوگ توحید کے ماننے والے ہیں۔لیکن میں نے ان کی بات کی جانب کوئی توجہ نہ دی اور ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا۔حضرت عمار مجھے ڈراتے رہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات میں یہ بات عرض کروں گا۔پھر حضرت عمار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات بتائی۔پھر جب حضرت عمار نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مدد نہیں کر رہے یعنی خاموش تھے تو اس حالت میں واپس لوٹ گئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔حضرت خالد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوا کر فرمایا کہ اے خالد ! عمار کو برا بھلا مت کہو کیونکہ جو عمار کو برا بھلا کہتا ہے اللہ اس کو برابھلا کہنے کا بدلہ دیتا ہے اور جو عمار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض رکھتا ہے اور جو عمار کو بیوقوف کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بیوقوف کہتا ہے۔(المستحرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 477 كتاب معرفة الصحابه ذكر مناقب عمار بن یاسر حدیث 5737 مطبوعه دار الحرمين للطباعة والنشر والتوزيع 1997ع) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت عمار بن یاسر نے آنے کی اجازت مانگی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اور فرمایا پاک اور پاکیزہ شخص خوش آمدید۔(سنن ابن ماجه کتاب فی فضائل اصحاب رسول الله الله فضل عمار بن ياسر حديث 146) یہ اعزاز تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بخشا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمار کو جب بھی دو باتوں میں سے کسی ایک کو کرنے کا اختیار دیا جاتا تو اسی بات کو اختیار کرتا ہے جس میں رشد اور ہدایت زیادہ ہو۔رض (سنن ابن ماجه کتاب فی فضائل اصحاب رسول الله ع الله فضل عمار بن ياسر حديث 148) حضرت عمرو بن شر خبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمار بن یاسر کے رگ و پا میں ایمان سرایت کئے ہوئے ہے۔(سنن النسائى كتاب الايمان باب تفاضل اهل الايمان حدیث 5010) یعنی مکمل طور پر ایمان میں ڈوبے ہوئے ہیں۔حضرت عمار بن یاسر کا شمار ان لوگوں میں ہو تا تھا جنہیں اللہ تعالیٰ نے شیطان سے پناہ دی ہوئی ہے۔ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میں شام میں آیا۔لوگوں نے کہا حضرت ابو دردا کہتے تھے کہ کیا تم میں سے وہ شخص تھا جس کو اللہ نے شیطان سے بچائے رکھا جس طرح اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان سے فرمایا ہے یعنی حضرت عمار کے بارے میں۔(صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب صفة ابليس وجنوده حديث 3287) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ پر چڑھائی کرنے کی تیاری فرمائی تو اس مہم کو پوشیدہ رکھا اور