خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 286

خطبات مسرور جلد 16 286 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 بہر حال بعد میں یہ خبر غلط نکلی۔حضرت عثمان آگئے۔لیکن مسلمانوں نے اس وقت یہ بیعت کی تھی، عہد کیا تھا کہ ہم اپنی جان پر کھیل جائیں گے لیکن اس کا بدلہ ضرور لیں گے کہ ایک سفیر کو، حضرت عثمان کو ، جو سفیر کے طور پر گئے تھے ان کو انہوں نے شہید کیا ہے یا قتل کیا ہے۔ایک روایت میں ہے حضرت حکم بن عتیبہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو چاشت کے وقت وہاں پہنچے تھے۔حضرت عمار نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی ایسی جگہ بنانی چاہئے جہاں آپ چھاؤں میں بیٹھ سکیں۔آرام کر سکیں اور نماز پڑھیں۔چنانچہ حضرت عمار نے چند پتھر جمع کئے اور مسجد قبا کی بنیاد ڈالی۔یہ سب سے پہلی مسجد ہے جو بنائی گئی اور حضرت عمار نے اس کو بنایا۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 126 عمار بن ياسر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے جنگ یمامہ میں حضرت عمار کو دیکھا کہ وہ ایک بلند چٹان پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو پکار رہے تھے۔بڑے بہادر تھے کہ اے مسلمانوں کے گروہ! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو۔میں عمار بن یاسر ہوں۔آؤ میرے پاس آؤ۔حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ ان کا ایک کان کٹ چکا تھا اور ہل رہا تھا لیکن آپ لڑائی میں مصروف تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 192 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) طارق بن شہاب کہتے ہیں اسی کٹے ہوئے کان کے حوالے سے بنو تمیم کے ایک شخص نے عمار کو اخد غ یعنی کان کٹا ہو اہونے کا طعنہ دیا۔حضرت عمار نے اسے کہا کہ تو نے میرے بہترین کان کو برا بھلا کہا ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 192 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) یعنی وہ کان جو اللہ تعالی کی راہ میں جنگ کرتے ہوئے قربان ہو ا تم اس کو برا کہہ رہے ہو اس کا طعنہ مجھے دے رہے ہو یہ تو میرا بہترین کان ہے۔حضرت خالد بن ولید بیان کرتے ہیں کہ میرے اور حضرت عمار کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی اور میں نے ان کو کوئی سخت بات کہہ دی۔حضرت عمار بن یاسر میری شکایت کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔میں بھی وہاں پہنچ گیا۔اس وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری ہی شکایت کر رہے تھے۔وہاں بھی میں سختی سے پیش آیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور کوئی بات نہیں فرما رہے تھے۔حضرت عمار رونے لگے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ خالد کی حالت نہیں دیکھتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایاجو عمار سے دشمنی رکھے گا اللہ اس سے دشمنی رکھے گا اور جو شخص عمار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض رکھے گا۔حضرت خالد بن ولید بیان کرتے ہیں کہ اُس وقت مجھے دنیا میں اس بات سے زیادہ کوئی بات محبوب نہ تھی کہ کسی طرح حضرت عمار مجھ سے راضی ہو جائیں۔حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں حضرت عمار سے ملا اور ان سے معافی مانگی۔پس وہ راضی ہو گئے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 125 عمار بن ياسر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء)