خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 285
خطبات مسرور جلد 16 285 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 کر لاتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر سے یعنی عمار کے سر سے غبار پو نچھا اور فرمایا کہ افسوس! باغی گروہ انہیں مار ڈالے گا۔عمار ان کو اللہ کی طرف بلا رہا ہو گا اور وہ اس کو آگ کی طرف بلا رہے ہوں گے۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد والسير باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله حديث 2812) حضرت عمار یہ دعا کیا کرتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 194 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) عبد اللہ بن ابی ھذیل سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد بنائی تو ساری قوم اینٹ پتھر ڈھو رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمار بھی ڈھو رہے تھے۔حضرت عمار یہ رجز پڑھ رہے تھے کہ نَحْنُ الْمُسْلِمُوْنَ نَبْتَنِي الْمَسَاجِدَا۔کہ ہم مسلمان ہیں جو مسجدیں بناتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے تھے۔النمسا جدا۔یعنی ساتھ آپ بھی دہرایا کرتے تھے۔حضرت عمار اس سے قبل بیمار بھی تھے۔بعض لوگوں نے کہا کہ آج عمار ضرور مر جائیں گے کیونکہ کام بہت زیادہ کر رہے ہیں اور بیماری سے اٹھے ہیں۔کمزوری بھی بہت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر حضرت عمار کے ہاتھ سے اینٹیں گرادیں۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 190 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) اور آپ نے ان سے کہا تم آرام کرو۔تو انتہائی کمزوری کی حالت میں بھی خدمت سے یہ لوگ محروم نہیں رہنا چاہتے تھے۔حضرت اُم سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 191 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت عمار بن یاسر غزوہ بدر اور اُحد اور خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔آپ بیعت رضوان میں بھی شریک تھے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 124 عمار بن ياسر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) بیعت رضوان وہ بیعت ہے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوئی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو بطور سفیر کے بات کرنے کے لئے مکہ میں بھیجا تو اس وقت انہوں نے، کفار نے، ان کو روک لیا اور مسلمانوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک کیکر کے نیچے اکٹھا کیا، جمع کیا اور آپ نے فرمایا کہ آج میں تم سب سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں کہ کوئی شخص پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اپنی جان پر کھیل جائے گا لیکن یہاں سے نہیں ہٹے گا۔یہ جگہ نہیں چھوڑے گا۔اس اعلان پر کہا جاتا ہے کہ صحابہ بیعت یا عہد کے لئے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔جب بیعت ہو رہی تھی تو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا اور فرمایا یہ ہاتھ عثمان کا ہاتھ ہے کیونکہ اگر وہ ہوتے تو پیچھے نہ رہتے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 761-762)