خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 284 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 284

خطبات مسرور جلد 16 284 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 غریب مومنوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔لوگ ان غریبوں کو پکڑ کر جنگل میں لے جاتے اور برہنہ کر کے جلتی تپتی ریت میں لٹا دیتے اور ان کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے۔وہ گرمی کی آگ سے تڑپتے۔مارے بوجھ کے زبان باہر نکل پڑتی۔بہتیروں کی جانیں اس عذاب سے نکل گئیں۔انہی مظلوموں میں سے ایک شخص عمارا تھا جسے اس حوصلہ اور صبر کی وجہ سے جو اس نے ظلموں کی برداشت میں ظاہر کیا۔" پھر آپ لکھتے ہیں کہ "حضرت عمارؓ کہنا چاہئے۔ان کی مشکیں باندھ کر اسی پتھریلی تپتی زمین پر لٹاتے تھے اور ان کی چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ محمد کو گالیاں دو اور یہی حال ان کے بڑھے باپ کا کیا گیا۔ان کی مظلوم بی بی سے جس کا نام سمیہ تھا یہ ظلم نہ دیکھا گیا اور وہ عاجزانہ فریاد زبان پر لائی۔اس پر وہ بے گناہ ایماندار عورت جس کی آنکھوں کے روبرو اس کے شوہر اور جوان بچے پر ظلم کیا جاتا تھا برہنہ کی گئی اور اسے سخت بے حیائی سے ایسی تکلیف دی گئی جس کا بیان کرنا بھی داخل شرم ہے۔آخر اس عذاب شدید میں تڑپ تڑپ کر اس ایماندار بی بی کی جان نکل گئی۔" سوانح عمری حضرت محمدصلی اللہ ہم بحوالہ چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 258) تو یہ خلاصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ہندو کی کتاب میں سے بیان کیا جو اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے میں اور آپ کے صحابہ کے بارے میں لکھی تھی۔سفیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے گھر میں عبادت کے لئے مسجد بنائی تھی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 189 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت عمار بن یاسر مدینہ ہجرت کر کے آئے تو حضرت مبشر بن عبد المنذر کے ہاں قیام کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ کی مؤاخات قائم فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار کی سکونت کے لئے ایک قطعہ زمین مرحمت فرمایا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 189-190 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں ابو سلمہ اور ام سلمہ نے ہجرت کی اور حضرت عمار بن یاسر چونکہ ان کے حلیف تھے اس لئے وہ بھی ان کے ہمراہ چلے گئے۔حضرت عمار بن یاسر حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔(المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 471 كتاب معرفة الصحابه ذكر مناقب عمار بن یاسر حدیث 5720 مطبوعه دار الحرمين للطباعة والنشر والتوزيع 1997ء)، (مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 591 مسندام سلمة زوج النبى حديث 27064 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان سے اور اپنے بیٹے علی بن عبد اللہ سے کہا کہ حضرت ابو سعید خدری کے پاس جاؤ اور ان کی بات سنو۔ہم ان کے پاس آئے اور وہ اور ان کا بھائی اپنے ایک باغ میں تھے جسے وہ پانی دے رہے تھے۔جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ آئے اور گوٹھ مار کر بیٹھ گئے۔(چوکڑی مار کے بیٹھ گئے ) اور انہوں نے کہا ہم مسجد نبوی بنتے وقت اینٹیں ایک ایک کر کے لاتے تھے اور عمار بن یاسر دودو اینٹیں اٹھا