خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 283

خطبات مسرور جلد 16 283 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 پھر پانی میں غوطے دیتے تھے اور تم نے فلاں فلاں بات کہی تھی۔اگر وہ دوبارہ تمہیں کریں تو تم ان سے وہی بات کہنا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 188-189 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) اس کی تفصیل سیرت خاتم النبیین میں اور روایتوں کے حوالے سے بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ عمار اور ان کے والد یا سٹر اور ان کی والدہ سمیہ کو بنی مخزوم جن کی غلامی میں سمیہ کسی وقت رہ چکی تھیں اتنی تکالیف دیتے تھے کہ ان کا حال پڑھ کر بدن میں لرزہ پڑنے لگتا ہے۔ایک دفعہ جب ان فدایانِ اسلام کی جماعت کسی جسمانی عذاب میں مبتلا تھی اتفاقاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرف آنکلے۔آپ نے ان کی طرف دیکھا اور دردمند لہجے میں فرمایا۔صَبْرًا أَلَ يَاسِر فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةِ۔اے آل یاسر ( صبر کر۔) صبر کا دامن نہ چھوڑنا کہ خدا نے تمہاری انہی تکلیفوں کے بدلہ میں تمہارے لئے جنت تیار کر رکھی ہے۔آخر یا سر تو اسی عذاب کی حالت میں جاں بحق ہو گئے اور بوڑھی سمیہ کی ران میں ظالم ابو جہل نے اس بے دردی سے نیزہ مارا کہ وہ ان کے جسم کو کاٹتا ہوا ان کی شرمگاہ تک جا نکلا اور اس بے گناہ خاتون نے اسی جگہ تڑپتے ہوئے جان دے دی۔اب صرف باقی عمار رہ گئے تھے۔ان کو بھی ان لوگوں نے انتہائی عذاب اور دکھ میں مبتلا کیا اور ان سے کہا کہ جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کفر نہ کرو گے اسی طرح عذاب دیتے رہیں گے۔چنانچہ آخر عمار نے سخت تنگ آکر کوئی نازیبا الفاظ منہ سے کہہ دیئے جس پر کفار نے انہیں چھوڑ دیا۔لیکن اس کے بعد عمار فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زار زار رونے لگے۔آپ نے پوچھا کیوں عمار کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں ہلاک ہو گیا۔مجھے ظالموں نے اتناد کھ دیا کہ میں نے آپ کے متعلق کچھ ایسے الفاظ منہ سے کہہ دیئے جو غلط تھے۔آپ نے فرمایا تم اپنے دل کا کیسا حال پاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ میرا دل تو اسی طرح مومن ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اسی طرح سر شار ہے۔آپ نے فرمایا تو پھر خیر ہے خدا تمہاری اس لغزش کو معاف کرے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 141) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب "چشمہ معرفت " میں ایک ہندو پر کاش دیوجی کی کتاب سے، جو انہوں نے "سوانح عمری حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم " کے نام سے لکھی تھی، چند عبارتیں تحریر فرمائی ہیں۔ایک تو آپ نے جماعت کو اس وقت نصیحت کی تھی کہ یہ کتاب خرید و اور پڑھو ایک غیر مسلم کی لکھی (ماخوذ از چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 255) ہوئی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ "وہ عبارتیں برہمو صاحب کی کتاب کی خلاصہ کے طور پر یہاں لکھی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں۔یہ تحریر فرمایا کہ: "حضرت کے اوپر " یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم " جو ظلم ہو تا تھا اسے جس طرح بن پڑتا تھا وہ برداشت کرتے تھے مگر اپنے رفیقوں کی مصیبت دیکھ کر ان کا دل ہاتھ سے نکل جاتا تھا۔"اپنے ظلم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم برداشت کر لیتے تھے لیکن اپنے ساتھیوں کا ظلم آپ کو بڑا تکلیف دیتا تھا " اور بیتاب ہو جاتا تھا۔ان