خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 282
خطبات مسرور جلد 16 282 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 وادی میں جارہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میر اہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ہم ابو عمار، عمار اور ان کی والدہ کے پاس آئے۔ان کو تکالیف دی جارہی تھیں۔حضرت یاسر نے کہا کیا ہمیشہ اسی طرح ہو تا رہے گا؟ آپ نے حضرت یا سر سے فرمایا صبر کرو۔اور پھر آپ نے یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ ! آل یاسر کی مغفرت فرما اور یقینا تُو نے ایسا کر دیا ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 188 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) یعنی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا تھا کہ ان کی مغفرت ہو گئی جس شدت کے تنگ حالات سے یہ گزر رہے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آل عمار کے پاس سے گزرے ان کو تکلیف دی جارہی تھی آپ نے فرمایا اے آل عمار ! خوش ہو جاؤ یقینا تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 188 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) ایک روایت میں ہے آل یاسر کے پاس سے گزرے۔(استیعاب جلد 4 صفحه 1589 ياسر بن عامر مطبوعه دار الجيل بيروت ) حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے سات افراد تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر اور حضرت عمار اور ان کی والدہ حضرت سمیہ نے حضرت صہیب ، حضرت بلال اور حضرت مقداد۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے ان کے چچا ابو طالب کے ذریعہ سے کروائی اور حضرت ابو بکر کی ان کی قوم کے ذریعہ سے۔یہ جو روایتوں میں تعداد کے لحاظ سے آتا ہے اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ پہلے آیا ہے کہ تیں آدمی اس وقت تک اسلام قبول کر چکے تھے جب حضرت عمار نے بیعت کی لیکن بہر حال ان کی روایت یہ ہے کہ یہ لوگ تھے یا یہ ایسے لوگ تھے جو سامنے زیادہ تھے اور جن کو تکلیفیں زیادہ دی جاتی تھیں۔بہر حال یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کی ان کی قوم کے ذریعہ سے حفاظت ہوئی اور جو باقی بچے انہیں مشرکین نے پکڑ لیا۔وہ انہیں لوہے کی زرہیں پہناتے اور دھوپ میں پینے کے لئے چھوڑ دیتے۔ان میں سوائے بلال کے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو اُن کی خواہش کے مطابق نہ چلا ہو۔بلال نے تو اپنی ذات کو اللہ کے لئے فنا کر دیا تھا۔انہیں ان کی قوم کی وجہ سے ذلیل کیا جاتا تھا۔قریش انہیں بچوں کے حوالے کر دیتے اور وہ انہیں مکہ کی گلیوں میں لئے پھرتے اور وہ احد احد کہتے جاتے تھے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 76 مسند عبد الله بن مسعود حدیث 3832 مطبوعه عالم الكتب بیروت 1998ء) حضرت عمار کو مشرکین پانی میں غوطے دے کر تکلیف دیا کرتے تھے۔یعنی سرپانی میں ڈالتے تھے ، مارتے تھے۔باقی تکلیفیں تو تھیں ہی۔وہی ٹارچر جو آجکل بھی دنیا میں اپنے مخالفین کو دیا جاتا ہے یا بعض حکومتیں بھی اپنے ملزمان کو دیتی ہیں۔لیکن بہر حال اس سے بڑا ٹارچر ان کو دیا جاتا تھا۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمار کو ملے۔اس وقت حضرت عمار رور ہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمار کی آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگے اور کہنے لگے تمہیں کفار نے پکڑ لیا تھا۔