خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 281

خطبات مسرور جلد 16 281 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 حضرت حمزہ چوٹی کے خاندان میں سے تھے۔حضرت عمر چوٹی کے خاندان میں سے تھے۔حضرت عثمان چوٹی کے خاندان میں سے تھے۔اس کے بالمقابل حضرت زید اور حضرت بلال اور سمرۃ اور خباب ، صہیب اور عامر اور عمار ابو فلیہ یہ چھوٹے سمجھے جانے والوں میں سے تھے۔گویا بڑے لوگوں میں سے بھی قرآن کریم کے خادم چنے گئے اور چھوٹے لوگوں میں سے بھی قرآن کریم کے خادم چنے گئے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 8 صفحه 176) آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ حضرت سمیہ ایک لونڈی تھیں۔ابو جہل ان کو سخت دکھ دیا کر تا تھا تاکہ وہ ایمان چھوڑ دیں لیکن جب ان کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ ہوئی " ان کے ایمان کو کوئی ہلا نہ سکا تو ایک دن ناراض ہو کر ابو جہل نے ان کی شرمگاہ میں نیزہ مارا اور انہیں شہید کر دیا۔حضرت عمار جو سمیہ کے بیٹے تھے انہیں بھی تپتی ریت پر لٹایا جاتا اور انہیں سخت دکھ دیا جاتا۔" ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 443) عروہ بن زبیر یہ روایت کرتے ہیں تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر مکہ میں ان کمزور لوگوں میں سے تھے جنہیں اس لئے تکلیف دی جاتی تھی کہ وہ اپنے دین سے پھر جائیں۔محمد بن عمر کہتے ہیں کہ مُسْتَضْعَفِین یعنی کمزور لوگ جو تھے ، قرآن کریم میں جن کمزوروں اور بے بس لوگوں کا ذکر آیا ہے ، یہ وہ لوگ تھے جن کے مکہ میں قبائل نہ تھے اور نہ ان کا کوئی محافظ تھا نہ انہیں کوئی قوت تھی۔قریش ان لوگوں پر دوپہر کی تیز گرمی میں تشدد کرتے تھے تاکہ وہ اپنے دین سے پھر جائیں۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 187 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) اسی طرح عمر بن الحکم کہتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر، حضرت صہیب، حضرت ابوکیہ پر اتنا ظلم کیا جاتا تھا کہ ان کی زبان سے وہ باتیں جاری ہو جاتی تھیں جن کو وہ حق نہیں سمجھتے تھے لیکن دشمن ظلم کر کے ان کے منہ سے وہ باتیں نکلوالیتے تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 188 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) اسی طرح روایت میں ہے محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے حضرت عمار بن یاسر کو ایک پاجامہ پہنے ہوئے دیکھا تھا۔اس نے کہا کہ میں نے حضرت عمار کی پشت پر ورم اور زخموں کے نشان دیکھے۔میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ تو حضرت عمار نے بتایا کہ یہ اس ایڈا کے نشان ہیں جو قریش مکہ دو پہر کی سخت دھوپ میں مجھے دیتے تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 188 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) عمر و بن میمون بیان کرتے ہیں کہ مشرکین نے حضرت عمار کو آگ سے جلایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمار کے پاس سے گزرے تو ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا۔يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَّ سَلَمَّا عَلَى عَمَّارٍ كَمَا كُنْتِ عَلَى اِبراھیم۔اے آگ تو ابراہیم کی طرح عمار پر بھی ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو جا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 188 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) پھر روایت میں آتا ہے حضرت عثمان بن عفان بیان کرتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی