خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 20
خطبات مسرور جلد 16 20 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 بھی وہاں تشریف لائے۔گورنر نے بڑی عزت اور تکریم کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔اپنے ساتھ بٹھایا۔اسی دوران وہاں کوفہ کا ایک شخص آیا اور اس نے حضرت علی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔حضرت سعید اس پر سخت ناراض ہوئے۔یہ نہیں کیا کہ گورنر کے سامنے بول رہے ہو تو حکمت اسی میں ہے کہ میں چپ رہوں۔اور فرمایا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر بن عوام، سعد اور عبد الرحمن بن عوف جنت میں ہوں گے اور کہنے لگے کہ دسواں بھی ہے۔اس کا نام میں نہیں لیتا جب زور دے کر پوچھا گیا تو بتایا کہ وہ دسواں میں یعنی سعید بن زید ہوں۔(سنن ابو داؤد کتاب السنة باب فى الخلفاء حديث 4649- (4650 ہے۔آپ سے ایک یہ بھی حدیث مروی ہے کہ سب سے بڑا سود یعنی حرام چیز مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ (سنن ابو داؤد کتاب الادب باب فى الغيبة حديث 4876) آج اسی چیز کو مسلمانوں نے بھلا دیا ہے اور بڑے پیمانے سے لے کر چھوٹے معاملات تک ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان مسلمان کی عزت پر اپنے مفادات کے لئے حملے کرتا ہے۔پھر ایک صحابی حضرت صہیب بن سنان رومی کا ذکر ملتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے اذن سے مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت ہوئی تو حضرت صہیب نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا۔آپ آئے تو ایک غلام کی حیثیت سے تھے پھر آزاد ہوئے۔پھر ترقی کی اور تجارت شروع کی اور آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہوئے بڑے مالدار تاجر ہو گئے۔تجارت کے ذریعہ سے بڑا مال کمایا۔جب ہجرت کر کے جانے لگے تو اہل مکہ نے کہا کہ تم ایک مفلس غلام کے طور پر ہمارے شہر میں آئے تھے ہم تمہیں یہاں سے کمایا ہو امال ہر گز نہیں لے جانے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اچھا میں اپنامال چھوڑ دیتا ہوں۔اگر مال چھوڑ دوں تو اب تو جانے دو گے۔بہر حال انہوں نے اپنا نصف مال اہل مکہ کے حوالے کیا اور ہجرت کا پروگرام بنایا۔جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ کی جانب روانہ ہوئے تو بعض قریش نے آپ کا پیچھا کیا۔صہیب بہت بہادر انسان تھے۔تیر اندازی بھی بڑے اچھے طریق سے کرتے تھے۔تیر اندازی میں بڑے ماہر تھے۔انہوں نے کفار کو دیکھ کر اپنے ترکش سے تمام تیر نکال کر زمین پر پھیلا دیئے اور ان لوگوں کو دیکھ کر کہا کہ اے قریش ! تم جانتے ہو کہ میں تم سے بہتر تیر انداز ہوں۔میرا آخری تیر ختم ہونے تک تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔اس کے بعد میری تلوار ہے اس کے ساتھ تمہیں مجھ سے لڑنا پڑے گا۔تم مجھے امن سے جانے دو بہتر یہی ہے اور اس کے عوض جو میرا باقی مال ہے جو میں نے فلاں جگہ رکھا ہوا ہے وہ لے لو۔چنانچہ انہوں نے بڑی حکمت سے اور اپنے مال کی قربانی کر کے بھی اپنے بچوں کو بھی بچایا اور خود بھی امن سے پہنچ گئے۔صہیب جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ کس طرح وہ سارا مال دے کر جان اور ایمان بچا کر یہاں آگئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔بڑا اچھا سودا ہوا ہے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 121 صهيب بن سنان مطبوعه دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء) ہر صحابی کا اپنا اپنا انداز ہے۔ایک موقع پر حضرت عمرؓ نے حضرت صہیب سے کہا کہ تم کثرت سے