خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 280

خطبات مسرور جلد 16 280 25 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جون 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 جون 2018ء بمطابق 22 احسان 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ابتدائی اور جانثار صحابی حضرت عمار بن یاسر تھے۔ان کے والد حضرت یاسر قحطانی نسل کے تھے۔یمن ان کا اصل وطن تھا۔اپنے دو بھائیوں حارث اور مالک کے ساتھ مکہ میں اپنے ایک بھائی کی تلاش میں آئے تھے۔حارث اور مالک یمن واپس چلے گئے مگر حضرت یاسر مکہ میں ہی رہائش پذیر ہو گئے اور ابو حذیفہ مخزومی سے حلیفانہ تعلق قائم کیا۔ابو حذیفہ نے اپنی لونڈی حضرت سمیہ سے ان کی شادی کروادی جن سے حضرت عمار پیدا ہوئے۔ابو حذیفہ کی وفات تک حضرت عمار اور حضرت یاسر ان کے ساتھ رہے۔جب اسلام آیا تو حضرت یاسر ، حضرت سمیہ اور حضرت عمار اور ان کے بھائی حضرت عبد اللہ بن یا سر ایمان لے آئے۔حضرت عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں حضرت صہیب بن سنان سے دارِ ارقم کے دروازے پر ملا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارِ ارقم میں تھے۔میں نے مہیب سے پوچھا تم کس ارادے سے آئے ہو ؟ تو صہیب نے کہا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ان کا کلام سنوں۔صہیب نے کہا میرا بھی یہی ارادہ ہے۔حضرت عمار کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے ہمیں اسلام کے بارے میں بتایا۔ہم نے اسلام قبول کر لیا۔ہم شام تک وہاں رہے۔پھر ہم چھپتے ہوئے دارار تم سے باہر آئے۔حضرت عمار اور حضرت صہیب نے جس وقت اسلام قبول کیا تھا اس وقت تیس سے زائد افراد اسلام قبول کر چکے تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 186-187 عمار بن یاسر مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) صحیح بخاری کی ایک روایت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا تھا جب آپ کے ساتھ صرف پانچ غلام اور دو عور تیں اور حضرت ابو بکر صدیق تھے۔(صحيح البخارى كتاب المناقب باب اسلام ابى بكر الصديق حديث 3857) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان صحابہ کے بارے میں ایک جگہ ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مکہ کے چوٹی کے خاندانوں میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے کئی لوگوں کو خدمت کی توفیق دی اور غرباء میں سے بھی کئی لوگوں نے اسلام کی شاندار خدمات سر انجام دیں۔چنانچہ دیکھ لو حضرت علی چوٹی کے خاندان میں سے تھے۔