خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 19

19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 خطبات مسرور جلد 16 ڈھال سے تشبیہ دوں گا کہ وہ احد کے میدان میں میرے لئے ایک ڈھال ہی تو بن گیا تھا۔وہ میرے آگے پیچھے دائیں اور بائیں حفاظت کرتے ہوئے آخر دم تک لڑتا رہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس طرف نظر ڈالتے آپ فرماتے ہیں شماس انتہائی بہادری سے وہاں مجھے لڑتے ہوئے نظر آتا۔جب دشمن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے میں کامیاب ہو گیا اور آپ کو غشی کی کیفیت طاری ہوئی۔آپ گر گئے۔تب بھی شماس ہی ڈھال بن کر آگے کھڑے رہے یہاں تک کہ خود شدید زخمی ہو گئے۔اسی حالت میں انہیں مدینہ لایا گیا۔حضرت ام سلمہ نے کہا کہ یہ میرے چچا کے بیٹے ہیں میں ان کی قریبی ہوں، رشتہ دار ہوں اس لئے میرے گھر میں ان کی تیمار داری اور علاج وغیرہ ہونا چاہئے۔لیکن زخموں کی شدت کی وجہ سے ڈیڑھ دو دن بعد ہی ان کی وفات ہو گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شماس کو بھی اس کے کپڑوں میں ہی دفن کیا جائے جس طرح باقی شہداء کو کیا گیا ہے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 131 شماس بن عثمان ، صفحه 115 طلحه بن عبيد مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) ایک صحابی سعید بن زید تھے یہ حضرت عمر کے بہنوئی تھے اور وہی ہیں جن کو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مارنے کے لئے جب حضرت عمرؓ نے ہاتھ اٹھایا تو ان کی بیوی اور حضرت عمرؓ کی بہن سامنے آگئیں اور زخمی ہو گئیں جس کا اثر حضرت عمر پر بھی ایسا ہوا کہ اسلام قبول کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔مائل ہوئے۔(سیرت ابن هشام صفحه 251 252 اسلام عمر بن الخطاب مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت سعید کے غنی اور خوف خدا کے معیار کے بارے میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ ان کی ایک جاگیر پر گزر بسر تھی۔زمین تھی۔کچھ رقبہ تھا اسی پر گزارہ ہوتا تھا۔ایک عورت کا رقبہ بھی آپ کے ساتھ ملتا تھا۔اس عورت نے ان کی زمین پر ملکیت کا دعویٰ کر دیا کہ آپ نے اس میں سے میرا کچھ رقبہ دبایا ہوا ہے۔حضرت سعید نے کہا کوئی مقدمہ لڑنے کی ضرورت نہیں اور اپنی اس پوری زمین سے ہی دستبردار ہو گئے۔رقبہ اس عورت کو دے دیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص ناحق کسی کی زمین ایک بالشت بھی لیتا ہے اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔تو میں یہ الزام اپنے اوپر نہیں لینا چاہتا اور لڑنا بھی نہیں چاہتا۔لیکن دنیا یہ بھی نہ کہے کہ کسی کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔کوئی یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ آپ نے ایک عورت کی زمین پر قبضہ کیا ہے اور اب یہ پتالگ گیا ہے تو زمین واپس دے رہے ہیں آپ بہت زیادہ صاحب دعا گو تھے۔اس لئے اپنے آپ کو اس بات سے، اس الزام سے بری کرنے کے لئے آپ نے اس عورت کے لئے یہ دعا کی کہ اگر یہ مظلوم نہیں ہے اور ظالم عورت ہے تو اللہ تعالیٰ اسے پکڑے اور اس کا بد انجام ہو۔چنانچہ کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ عورت اندھی ہو کر ہلاک ہوئی اور عبرت کا نشان بنی۔(صحیح مسلم کتاب المساقاة باب تحريم الظلم۔۔۔الخ حديث 4024) حق بات کہنا اور کسی سے نہ ڈرنا صحابہ کا شیوہ تھا۔حضرت سعید بن زید کے بارے میں آتا ہے کہ ایک دن کو فہ میں امیر معاویہ کے مقرر کردہ جو گورنر تھے وہ گورنر ایک دن وہاں جامع مسجد میں بیٹھے تھے۔حضرت سعید