خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 268

خطبات مسرور جلد 16 268 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 تو بہ انسان کے واسطے کوئی زائد یا بے فائدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا و دین دونوں سنور جاتے ہیں اور اسے اس جہان میں اور آنے والے جہان دونوں میں آرام اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔دیکھو قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا میں بھی آرام اور آسائش کے سامان عطا فرما اور آنے والے جہان میں بھی آرام اور راحت عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔دیکھو در اصل ربنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک بار یک اشارہ ہے کیونکہ ربنا کا لفظ چاہتا ہے کہ بعض اور رتبوں کو جو اس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بیزار ہو کر اس رب کی طرف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درد اور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔"جب انسان ربنا کہتا ہے تو وہ صرف اپنے منہ سے نہیں کہتا۔جب دعادل سے نکلتی ہے تو ربنا کہے گا ہی اس وقت جب دل سے نکلے گا۔بعض لوگ ظاہری طور پر بھی کہتے ہیں لیکن حقیقت اس دعا کی وہی ہے جب دل سے نکلے۔فرمایا کہ "رب کہتے ہیں بتدریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔اصل میں انسان نے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔اپنے حیلوں اور دغا بازیوں پر اسے پورا بھروسہ ہو تا ہے تو وہی اس کے رب ہوتے ہیں۔اگر اسے اپنے علم کا یا قوت بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے حسن یا مال و دولت پر فخر ہے تو وہی اس کا رب ہے۔غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔جب تک ان سب کو ترک کر کے ان سے بیزار ہو کر اس واحد لا شریک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور ربنا کی پر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اس کے آستانے پر نہ گرے تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔پس جب ایسی دلسوزی اور جاں گدازی سے اس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے تو بہ کرتا اور اسے مخاطب کرتا ہے کہ ربنا یعنی اصلی اور حقیقی رب تو تُو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے۔اب میں نے ان جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں تیرے آستانے پر آتا ہوں۔غرض بجز اس کے خدا کو اپنا رب بنانا مشکل ہے۔جب تک انسان کے دل سے دوسرے رب اور ان کی قدر و منزلت و عظمت و و قار نکل نہ جاوے تب تک حقیقی رب اور اس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھاتا۔بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا رب بنایا ہوا ہو تا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے ہدوں گزارہ مشکل ہے۔بعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہی کو اپنا رب بنائے ہوئے ہیں۔ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے کوئی رزق کی راہ نہیں ہے۔سو ان کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔" فرمایا کہ " غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھر وسہ ہوتا ہے ان کو خدا سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت؟ دعا کی حاجت تو اسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اس در کے نہ ہو۔اس کے دل سے دعا نکلتی ہے۔غرض ربنا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے اربابِ باطلہ بیچ ہیں۔" فرمایا کہ " آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو