خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 267

خطبات مسرور جلد 16 267 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 ناپاک چولہ ہے، جو لباس ہے بدن سے اتار دے۔اپنے آپ کو پاک کرلے۔اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ میں جلنے لگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ رحم سے رجوع نہیں کرے گا؟ یہ ان لوگوں کا نظریہ ہو سکتا ہے۔فرمایا کہ ایسے لوگ جو ہیں یہ جھوٹ بولتے ہیں لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذِبِينَ۔آپ نے فرمایا کہ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ بندہ تو اپنا حق ادا کر دے اور خدا تعالیٰ کچھ بھی عطا نہ کرے۔یہ اللہ تعالیٰ کے مقام کے ہی خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کے خلاف ہے کہ میری رحمت بڑی وسیع ہے۔یہ اس کے قانون کے خلاف ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس کی وسیع رحمت ہونے کے اعلان کے خلاف ہے۔لیکن انسان نے جو فرض پورا کرنا ہے وہ بھی یہ ہے کہ ایسی کوشش کرے کہ گویا مر جاوے اور پہلا ناپاک لباس جو ہے ، انسان کا گناہوں کا لباس اس کو اپنے بدن سے اتار دے اور اس کی محبت کی آگ میں جل جائے۔آپ نے فرمایا یہ چیزیں ہوں گی اور یہ باتیں بڑی غور طلب ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسا رجوع کرتا ہے کہ انسان اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔پس یہ ہے وہ مغفرت کی طلب کا معیار جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بندے کو حقدار بنادیتی ہے۔وہ حق جس کی ادا ئیگی خود اللہ تعالیٰ نے اپنے پر فرض کر لی ہے۔آپ نے سچی اور حقیقی تو بہ کی شرائط بھی بیان فرمائیں کہ یہ حاصل کرنے کے لئے انسان کو کیا اور کس طرح کوشش کرنی چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ سچی توبہ کے لئے تین شرطیں ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے دماغ کو ان تمام باتوں سے پاک کرو جن سے فاسد خیالات پیدا ہوتے ہیں اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ان برائیوں کی کریہہ اور خوفناک شکل اپنے ذہن میں پیدا نہیں کروگے۔اگر ان کی طرف توجہ رہے گی، اگر ان کے خلاف ذہن میں ایک مکروہ شکل نہیں بناؤ گے تو پھر ان سے بچنا بڑا مشکل ہے۔پہلی چیز تو یہی ہے کہ اس کو اپنے دماغ سے نکالنا پڑے گا۔کوشش کر کے ان چیزوں سے نفرت کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے۔دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھی غلط کام کرنے یا برائی کی طرف توجہ جانے پر ندامت اور پشیمانی ہونی چاہئے۔انسان کے دماغ میں جب خیال آئے تو فوراً شرمندگی اور پشیمانی کا خیال ہونا چاہئے۔یہ خیال دل میں ہو کہ یہ برائیاں اور لذات جن کی طرف میں جارہا ہوں یہ عارضی ہیں اور میری زندگی برباد کرنے والی ہیں اور ایک وقت آکے یہ چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔عارضی لذت ہے۔گویا اپنے کا نشنس کی بات سننی ہے۔انسان کا ضمیر اسے بتارہا ہے، اس کا کانشنس بتاتا ہے، ہر حال میں بتاتا ہے کہ یہ بری چیز ہے یا اچھی چیز ہے۔جب اس طرح کی سوچ کریں گے اور ضمیر کی آواز سنیں گے تو آہستہ آہستہ برائی سے بھی آپ نے فرمایا کہ بچ جاؤ گے۔اور تیسری بات یہ ہے کہ عزم ہو ، پکا ارادہ ہو کہ میں نے ان برائیوں کے قریب بھی نہیں جانا اور پھر اس پر قائم رہنے کے لئے مکمل قوت ارادی بھی ہو اور دعا بھی ہو تو پھر یہ برائیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کی جگہ پھر نیکیاں لینی شروع کر دیں گی۔آپ نے جو فرمایا کہ ناپاک چولہ اتارنا ہو گا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ ایک بھر پور کوشش کرو اور اس پر قائم رہو۔قوت ارادی سے قائم رہو تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حقدار بنو گے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اوّل صفحہ 138-139) استغفار اور توبہ سے آگ سے بچنے کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: