خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 266

خطبات مسرور جلد 16 266 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08جون2018 بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی جس کا نام تُوبُوا إِلَيْهِ ہے۔فرمایا کہ " تو بہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے۔اگر استغفار نہ ہو تو یقینا یاد رکھو کہ توبہ کی قوت مر جاتی ہے۔پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر تو بہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہو گا يُمَتَّعُكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إلى أَجَلٍ مسمی۔" کہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اللہ تعالیٰ بہترین سامان عطا کرے گا۔فرمایا کہ " سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پالو گے۔ہر ایک جس کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔ہر ایک آدمی نبی، رسول، صدیق، شہید نہیں ہو سکتا۔" ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 68-69) لیکن جو بھی کسی کے مدارج مقرر کئے گئے ہیں، جس جس حد تک کسی نے پہنچنا ہے ان کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنی پڑے گی اور وہ استغفار اور توبہ کے ذریعہ سے ہو گی۔پھر توبہ کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: واضح ہو کہ تو بہ لغت عرب میں رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔اسی وجہ سے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام بھی تو اب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ جب انسان گناہوں سے دست بردار ہو کر صدق دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے بڑھ کر اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔اور یہ امر سراسر قانون قدرت کے مطابق ہے۔کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ نے نوع انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ جب ایک انسان سچے دل سے دوسرے انسان کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کا دل بھی اس کے لئے نرم ہو جاتا ہے۔تو پھر عقل کیونکر اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بندہ تو سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے مگر خدا اس کی طرف رجوع نہ کرے۔بلکہ خدا جس کی ذات نہایت کریم ورحیم واقع ہوئی ہے وہ بندہ سے بہت زیادہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام۔۔۔تواب ہے۔یعنی بہت رجوع کرنے والا۔سو بندے کا رجوع تو پشیمانی اور ندامت اور تذلل اور انکسار کے ساتھ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کار جوع رحمت اور مغفرت کے ساتھ۔اگر رحمت خدا تعالیٰ کی صفات میں سے نہ ہو تو کوئی مخلصی نہیں پاسکتا۔" فرمایا کہ " افسوس ! کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی صفات پر غور نہیں کی اور تمام مدار اپنے فعل اور عمل پر رکھا ہے " جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے عمل سے ہی سب کچھ حاصل کر لینا ہے "مگر وہ خدا جس نے بغیر کسی کے عمل کے ہزاروں نعمتیں انسان کے لئے زمین پر پیدا کیں۔کیا اس کا یہ خُلق ہو ہے کہ انسان ضعیف البنیان جب اپنی غفلت سے متنبہ ہو کر اس کی طرف رجوع کرے اور رجوع بھی ایسا کرے کہ گویا مر جاوے اور پہلا ناپاک چولہ اپنے بدن پر سے اتار دے اور اس کی آتش محبت میں جل جائے تو پھر بھی خدا اس کی طرف رحمت کے ساتھ توجہ نہ کرے۔کیا اس کا نام خدا کا قانون قدرت ہے ؟۔" سکتا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 133-134) آپ ان لوگوں کو جواب دے رہے ہیں جو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ رحمت کرتے ہوئے رجوع نہیں کرتا۔بیشک انسان دعا کرتے ہوئے، استغفار کرتے ہوئے اپنی حالت مردہ کی طرح بنالے گویا کہ وہ مر گیا ہے اور اپنا جو پہلا