خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 265
خطبات مسرور جلد 16 265 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 یہ صحیح نہیں۔اللہ تعالیٰ نے رحمت ان کے لئے اپنے اوپر فرض کی ہے جو اس کی طرف آتے ہیں۔اس کے احکامات کے پابند ہیں۔اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔پھر استغفار کے مضمون کو مزید کھولتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔"گناہ کر لیا۔پتہ ہی نہیں لگتا۔بے حس ہو چکے ہوتے ہیں۔یا غلطی سے گناہ سر زد ہو جاتا ہے۔پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کیا ہے۔" اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو، خواہ باطن کا، خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔" جسم کے جتنے اعضاء ہیں کسی سے بھی ایسا گناہ سرزد نہ ہو۔استغفار کرتے رہو۔فرمایا کہ "آجکل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف:24) یہ دعا اوّل ہی قبول ہو چکی ہے " اللہ تعالیٰ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔اگر تو نے ہمیں نہ بخشا، ہم پر رحم نہ کیا تو پھر ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔آپ نے فرمایا کہ یہ دعا اول سے قبول ہو چکی ہے۔"غفلت سے زندگی بسر مت کرو۔جو شخص غفلت سے زندگی نہیں گزار تا ہر گز امید نہیں کہ وہ کسی فوق الطاقت بلا میں مبتلا ہو۔کوئی بلا بغیر اذن کے نہیں آتی۔" فرمایا کہ " جیسے مجھے یہ دعا الہام ہوئی رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي " ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 275-276) پس اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آنے کے لئے اس کی مدد و نصرت کے لئے اس کارحم حاصل کرنے کے لئے کوشش، استغفار اور دعاضروری ہے۔استغفار اور تو بہ ہم دولفظ استعمال کرتے ہیں۔اس کے فرق کو واضح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " استغفار اور توبہ دو چیزیں ہیں۔ایک وجہ سے استغفار کو تو بہ پر تقدم ہے۔" یعنی اس کو فوقیت ہے کیونکہ وہ پہلے ہے۔توبہ سے پہلے استغفار ہے " کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے۔" گناہوں سے بچنے کے لئے استغفار کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد اور طاقت حاصل کی جاتی ہے تاکہ انسان گناہوں سے بچے اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔" یعنی بچنے کے بعد پھر مستقل مزاجی سے اس پر قائم رہنا۔اپنے گناہوں سے بچنے کے لئے جو استغفار کی ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ہے اس پر قائم رہنے کے لئے تو بہ ہے۔تو یہ دعا ہے۔تو بہ اس لئے ہے کہ اے اللہ جو مغفرت کی دعا ہم نے کی ہے ہمیں اس پر قائم بھی رکھ۔آگ سے نجات دی ہے تو یہ مستقل نجات ہو۔ہمارا کوئی فعل یا جو بھی اس میں کوششیں ہم نے کی ہیں یہ ساری کوششیں تجھے ناراض کرنے والی نہ بن جائیں کہ ہم پھر واپس اسی جگہ آجائیں۔اس کے لئے توبہ ہے۔یعنی گناہوں سے معافی مانگنے کے لئے تو بہ ہے۔واتوب الیہ کہا تو اس لئے کہ ہمیں اب پھر اس پر قائم بھی رکھ کہ ہم اپنے گناہوں سے بچیں بھی رہیں۔تیری مغفرت کو ہمیشہ حاصل کرنے والے بھی رہیں اور آگ سے ہمیں ہمیشہ کے لئے نجات بھی ملتی رہے۔فرمایا کہ " عادت اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے