خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 264
264 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 خطبات مسرور جلد 16 خالق ہے اور اس کے تمام قوی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے۔یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔پس جب کہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی رائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ سے بگڑنے سے بچاوے۔" (عصمت انبیاء، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 671) اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا۔وہ قیوم بھی ہے۔پس انسان کی جو پیدائش ہے وہ قانون قدرت کے تابع ہے۔بیشک انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، پیدائش اُسی کے اذن ہوتی ہے لیکن قانون قدرت کے تابع انسانی کوشش اور ذریعہ اور جو قانون اللہ تعالیٰ نے پیدائش کا بنایا ہے اس سے گزرنا پڑتا ہے ، یہ ضروری ہے۔پس فرمایا کہ پیدائش میں انسان کی جو کوشش ہے اس کے بعد اللہ تعالی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر چلنے کے لئے، اس پر عمل کرنے کے لئے اس کی جو صفت قیومیت ہے اس کا بھی تمہارے سے اظہار ہونا چاہئے۔اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے حکموں پر چلنے کے لئے اس سے دعا اور استغفار کی طرف توجہ رہنی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ اس صفت قیومیت کو استعمال میں لاتے ہوئے پھر وہ طاقت بھی بخشے جس سے انسان اس کے حکموں پر چلنے والا بنار ہے۔پھر مزید وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوم۔۔۔سوہ خدا خالق بھی ہے اور قیوم بھی اور جب انسان پید ا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے۔" انسان پید اہو گیا تو خالقیت کا کام جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے وہ پوری ہو گئی لیکن قیومیت کا کام جب تک انسان کی زندگی ہے اس وقت تک اس کے ساتھ ہے " اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔" ہمیشہ اس قیومیت کی صفت کو حاصل کرنے کے لئے مستقل استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔" غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے۔پس استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے" ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفت قیومیت سے فیض حاصل کرنا ہے تو استغفار کرو تا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قوی دیئے ہیں ، جو صلاحیتیں دی ہیں ، جو طاقتیں دی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔فرمایا کہ اسی " کی طرف اشارہ سورۃ فاتحہ کی اس آیت میں ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں۔" ( عصمت انبیاء، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 672) پس یہ وہ بنیادی نقطہ ہے جو ہر وقت ہمارے سامنے رہنا چاہئے۔صرف یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میری رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔اس لئے جو چاہے کر لو۔بعد میں اللہ تعالیٰ سے رحمت اور بخشش مانگ لینا۔