خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 263
خطبات مسرور جلد 16 263 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کسی پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے تو وہ اس وجہ سے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے قانون سے باہر نکلنے کی انتہا کر دی ہے اور پھر باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو وسیع کیا ہوا ہے پھر بھی وہ اس کے غضب کی زد میں آجاتے ہیں۔پھر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " وعید میں دراصل کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔صرف اس قدر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدوسیت کی وجہ سے تقاضا فرماتا ہے کہ شخص مجرم کو سزا دے۔پھر جب شخص مجرم تو بہ اور استغفار اور تضرع اور زاری سے اس تقاضا کا حق پورا کر دیتا ہے تو رحمت الہی کا تقاضا غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے اور اس غضب کو اپنے اندر مجوب و مستور کر دیتا ہے۔یہی معنی ہیں اس آیت کے کہ عَذَابِي أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شيْءٍ (الاعراف: 157) - یعنی رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِى " (تحفہ غزنویہ ، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 537) یعنی میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔جب انسان تو بہ کر رہا ہے ، استغفار کر رہا ہے ، تضرع کر رہا ہے ، دعائیں مانگ رہا ہے اور جب اس کا یہ تقاضا پورا کر دیتا ہے، جو اس کا حق ہے وہ پورا کر دیتا ہے تو پھر آپ نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر سزا دینا کوئی فرض نہیں کیا ہوا۔بلکہ اس نے جو فرض کیا تو وہ ایسے لوگوں پر رحمت فرض کی ہے۔پھر اس کی رحمت جو ہے اس کے غضب کے تقاضے پر غالب آ جاتی ہے اور غضب جو ہے وہ غائب ہو جاتا ہے اور پر دوں میں چھپ جاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کا ذریعہ توبہ اور استغفار ہے۔اور استغفار کی حقیقت کیا ہے۔اس کے معنی کیا ہیں۔اس بارے میں آپ بیان فرماتے ہیں کہ : " استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔" استغفار کس لئے ہے کہ انسان ہے کمزور ہے تو کوئی کمزوری جو انسان کے اندر ہے وہ ظاہر نہ ہو اور جو انسانی فطرت ہے وہ اس کو اللہ تعالیٰ اپنی طاقت سے سہارا دے اور گناہ سرزد ہونے سے بچائے۔غلطیاں سرزد ہونے سے بچائے۔فرمایا کہ " یہ لفظ غفر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغفِر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔" یعنی جو استغفار کرنے والا شخص ہے اس کی جو فطرتی کمزوری ہے، انسان کی فطرت میں بہت کمزوریاں ہوتی ہیں ، ان کو ڈھانک لے۔وہ ظاہر نہ ہوں۔اور ان کمزوریوں کی وجہ سے اس سے گناہ سرزد نہ ہوں۔لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنی اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔" یعنی جو انسان گناہ کر چکا ہے اس کو بھی ڈھانک لے۔اس کے بد اثرات سے بچائے۔اس کی وجہ سے جو سزا ملنی ہے اس سے بچائے۔لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا