خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 262
خطبات مسرور جلد 16 262 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 نے ایک ذریعہ بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کا ایک ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ورنہ نہ ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت چند دنوں تک محدود ہے، نہ اس کی مغفرت چند دنوں تک محدود ہے ، نہ اس کی مغفرت کی قبولیت کی وجہ سے آگ سے نجات چند دنوں کے لئے یا کچھ عرصے کے لئے محدود ہے۔پس اس بات پر ہمیں ہمیشہ غور کرتے رہنا چاہئے۔اس زمانے میں قدم قدم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے کہ ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ کس طرح ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لینے والے بن سکتے ہیں اور کس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت میں لپیٹنے کے سامان کرتا ہے یا ہمارے ایک عمل کو کس طرح بڑھ کر نوازتا ہے۔کس طرح مغفرت کے سامان کرتا ہے اور کس طرح ہمیں مغفرت کے لئے کوشش کرنی چاہئے تا کہ اس کی رحمت مستقل ہمارے شامل حال رہے۔اس کے لئے میں آپ کے بعض اقتباسات بھی پیش کروں گا اور وضاحت بھی کروں گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیات کی وضاحت فرماتے ہوئے جو میں نے تلاوت کی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "میں جس کو چاہتا ہوں عذاب پہنچاتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز پر احاطہ کر رکھا ہے۔سو میں ان کے لئے جو ہر یک طرح کے شرک اور کفر اور فواحش سے پر ہیز کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور نیز ان کے لئے جو ہماری نشانیوں پر ایمان کامل لاتے ہیں اپنی رحمت لکھوں گا۔" (براہین احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 564) یہاں آپ نے تقویٰ کی وضاحت تین الفاظ میں فرمائی کہ شرک سے پر ہیز کرنا، کفر سے بچنا اور فواحش سے پر ہیز کرنا۔آجکل قدم قدم پر فواحش کے سامان ہیں۔ٹی وی پہ انٹر نیٹ پہ اور میڈیا میں بیہودگیاں اور لغویات کے سامان ہیں۔پس جو بھی ان کے بیہودہ اور لغو پروگرام ہیں ان سے بچنا بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔رمضان میں ان دنوں میں روزے رکھنے کے لئے جلدی بھی اٹھنا پڑتا ہے اور رات کو دوسری مصروفیات بھی ہیں اس لئے بہت سے لوگ ہیں جو شاید ان دنوں میں ان چیزوں کو اتنا نہیں دیکھتے یا ان لغویات میں نہیں پڑے ہوئے یا اس سے بچے ہوئے ہیں۔اس سے مستقل بچنا یہ ضروری ہے۔یہ چیزیں آجکل خاص طور پر نوجوانوں کو بلکہ اکثر شکائیتیں آتی ہیں کہ بڑوں کو بھی، ان کے ذہنوں کو زہر آلود کر رہی ہیں اخلاق بھی خراب ہو رہے ہیں اور یہ لوگ ایمان سے بھی دور جارہے ہیں۔پس ہر احمدی کو اس طرف توجہ کرتے ہوئے بھر پور کوشش کرنی چاہئے اور ان چیزوں کا بھی صحیح، مناسب اور محتاط استعمال کرنا چاہئے۔پھر ایک جگہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے اور غضب یعنی صفت عدل بعد کسی خصوصیت کے پیدا ہوتی ہے۔یعنی یہ صفت قانون الہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے۔" جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 207) پس جب اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دیتا ہے تو اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون سے باہر نکلتا ہے اور جیسا کہ ذکر ہو چکا یہ سزا بھی اصلاح کے لئے ہوتی ہے اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ کی رحمت غالب آجاتی ہے۔بہر حال واضح ہو کہ