خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 261
خطبات مسرور جلد 16 261 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 خوش قسمت ہیں وہ جو ان دنوں سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔پھر یہ بھی اس کی دین ہے کہ ان آخری دنوں میں لیلتہ القدر کی تلاش کی طرف بھی ہمیں توجہ دلائی ہے تاکہ ہم قبولیت دعا کے پہلے سے بڑھ کر نظارے دیکھیں۔یہ بھی کوئی ہمارا حق تو نہیں۔یہ بھی اس کی عطا ہے تاکہ بندوں کو اپنے قریب تر کرنے کی طرف ترغیب دے اور یہ بھی اس کی رحمت کی وسعت ہے۔پھر ایک حدیث میں ہے کہ رمضان کا ابتدائی عشرہ رحمت ہے اس کا درمیانی عشرہ مغفرت ہے اور اس کا آخری عشرہ آگ سے نجات ہے۔(كنز العمال جلد 8 صفحه 463 حدیث 23668 مطبوعه موسسة الرسالة بيروت 1985ء) جب رمضان میں انسان روزے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر پہلے سے زیادہ عمل کرے، اپنی عبادتوں کو بڑھائے، اپنے تقویٰ میں ترقی کرے تو پھر انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چادر میں پہلے سے بڑھ کر آ گیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بندہ میری خاطر روزہ رکھتا ہے۔ان دنوں میں میری خاطر بعض جائز باتوں کے کرنے سے بھی رکتا ہے تو پھر ایسے روزہ دار کی جزا میں خود بن جاتا ہوں۔(صحيح البخارى كتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذا شتم حديث 1904) جب اللہ تعالیٰ خود جزا بن گیا تو مغفرت کے سامان ہو گئے اور جب مغفرت کے سامان ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور بخشش اور توبہ قبول کر لی تو پھر آگ سے بھی انسان کی نجات ہو گئی۔آگ سے بھی بچ گیا۔اس دنیا کی آگ سے بھی اور آخرت ، اگلے جہان کی آگ سے بھی۔مگر شرط یہی ہے کہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی خاطر روزہ رکھنا ہے اور عمل بھی کرنے ہیں اور پھر یہ عمل مستقل زندگی کا حصہ بن کر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں مستقل لیٹے رکھنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف رمضان کے پہلے عشرہ کے لئے نہیں۔پہلے سے دوسرے عشرے میں بھی داخل ہو رہی ہے اور تیسرے عشرے میں بھی داخل ہو رہی ہے اور مستقل انسان کے ساتھ ہے جب تک اس کے عمل تقویٰ پر چلتے ہوئے اور ایمان میں مضبوطی کے ساتھ سر انجام دیئے جاتے رہیں گے۔اسی طرح اس کی مغفرت صرف در میانی دس دن کے لئے نہیں ہے بلکہ رمضان کے آخر تک اور اس سے بھی آگے تک انسان کے ساتھ ہے اور جب تک انسان کی زندگی ہے اس کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچانے والی ہے۔اسی طرح آگ سے بھی صرف انسان ان دس دنوں میں نہیں بچ رہا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتے ہوئے جو رمضان سے بھی گزر جائے گا تو وہ اس کے بعد بھی آگ سے دُور رہے گا۔ورنہ اگر رمضان کے بعد پھر وہی دنیا داری کے غالب آنے اور تقویٰ سے دوری اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عدم توجہ اور ایمان کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کے نشانات کی ہم نے پرواہ نہ کرنا ہے تو پھر ایسا ہی ہے جیسے اپنے لئے انسان ایک محفوظ حصار بناتا ہے، ایک محفوظ مورچہ بناتا ہے اور پھر خود ہی اس کو ضائع کر دے اور توڑ دے۔پس یہ رمضان تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لینے کے لئے اور پہلے سے بڑھ کر حصہ لینے کے لئے اللہ تعالیٰ