خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 18
18 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 خطبات مسرور جلد 16 (الطبقات الكبرى لابن۔سعد جلد 3 صفحه 88 خباب بن الارث مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) پھر معاذ بن جبل ایک صحابی تھے ان کے بارے میں آتا ہے کہ تہجد ادا کرنے والے اور لمبی عبادت کرنے والے تھے۔ان کی تہجد کی نماز کا ان کے قریبیوں نے یوں نقشہ کھینچا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے کہ اے میرے مولیٰ اس وقت سب سوئے ہوئے ہیں۔آنکھیں سوئی ہوئی ہیں۔اے اللہ تو حی و قیوم ہے میں تجھ سے جنت کا طلب گار ہوں مگر اس میں کچھ سست رو ہوں۔یعنی عمل کرنے میں میں سست ہوں۔اور آگ سے دور بھاگنے میں کمزور اور ناتواں ہوں۔۔مجھے پتا ہے کہ جہنم کی آگ بھی ہے اور اس کے لئے نیکیاں کرنی پڑتی ہیں لیکن اس سے بچنے کے لئے میں بہت کمزور ہوں۔اے اللہ تو مجھے اپنے پاس سے ہدایت عطا کر دے اور وہ ہدایت دے جو مجھے قیامت کے دن بھی نصیب ہو جس دن تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت خرچ کیا کرتے تھے اور خرچ کرنے کی وجہ سے ان پر قرض بھی چڑھ جاتا تھا۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 402 معاذ بن جبل مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) حضرت کعب بن مالک کے بیٹے حضرت معاذ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حضرت معاذ کے ساتھ عجیب سلوک تھا۔وہ نہایت حسین بھی تھے۔بہت سخی بھی تھے۔ان کی دعائیں بھی بہت قبول ہوتی تھیں۔جو اللہ تعالیٰ سے مانگتے اللہ تعالیٰ انہیں عطا بھی کر دیتا تھا۔اللہ تعالیٰ کا ان سے خاص معاملہ تھا۔اگر قرض چڑھتے بھی تھے تو اتر نے کے سامان بھی اللہ تعالیٰ فرما دیتا تھا۔ایک عجیب فہم و فراست اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہوئی تھی۔(المعجم الكبير للطبراني جلد 20 صفحه 30 تا 32 حدیث 44 مطبوعه دار احياء التراث العربی بیروت 2002ء) عشق و محبت کی داستانیں: اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے ان صحابہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت تھی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ہی خدا تعالیٰ سے بھی محبت پیدا ہوئی تھی کیونکہ آپ کی قوت قدسی نے ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کا ادراک ان لوگوں میں پیدا کیا تھا۔جیسا کہ ذکر ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نے ان میں ایک انقلاب پیدا کیا تھا ورنہ یہ عشق و محبت کی داستانیں جو ہیں کبھی رقم نہ ہو تیں۔اللہ تعالیٰ کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی وہ بھی ایسی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ذکر چنانچہ حضرت شماس بن عثمان کے بارے میں تاریخ نے ایسا واقعہ محفوظ کیا ہے جو ان کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی ایک مثال بن گیا اور اسلام کی خاطر قربانی کے اعلیٰ ترین معیار قائم کرنے کی بھی مثال ہے۔جنگ احد میں جہاں حضرت طلحہ کی عشق و محبت کی داستان کا ذکر ملتا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے سامنے رکھا کہ کوئی تیر آپ کو نہ لگے وہاں حضرت شماس نے بھی بڑا عظیم کردار ادا کیا ہے۔حضرت شماس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ہر حملہ اپنے اوپر لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت شماس کے بارے میں فرمایا کہ شماس کو اگر میں کسی چیز سے تشبیہ دوں تو