خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 260
خطبات مسرور جلد 16 260 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 اعضاء کے ذریعہ ، جن طاقتوں کے ذریعہ سے پوشیدہ حملے کرواتا ہے اس لئے اس سے ہوشیار رہنا یہ انسان کا کام ہے۔تبھی وہ صحیح تقویٰ پر چل سکتا ہے۔تبھی وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی ادائیگی صحیح طرح کر سکتا ہے۔فرمایا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لباس التقویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بہ مقدور کار بند ہو جائے۔" (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 209-210) اس کی جو باریک سے باریک باتیں ہیں اس پر بھی جتنی حد تک انسان کی طاقت ہے ، جس حد تک قدرت رکھتا ہے اس کی پابندی کرے ان پر عمل کرے۔پس اس معیار کو انسان حاصل کر لے تو یہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے بندے پر بطور حق کے فرض ہو جاتی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ خود اپنے پر یہ فرض کر لیتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ بندے کا کیا مقام ہے کہ بطور حق اللہ تعالیٰ سے کچھ لے سکے۔یہ دن جن میں سے ہم گزر رہے ہیں یہ رمضان کے دن ہیں۔اس کا آخری ہفتہ اب رہ گیا ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصيام باب فضل شهر رمضان حدیث 2495) اس سے بھی مومن ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔وہی فائدہ اٹھائے گا جو صحیح طرح ایمان لانے والا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والا ہے۔شیطان کے چیلے تو ان دنوں میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔دنیا میں بے تحاشا بیہودگیاں، بے حیائیاں روز مرہ کا معمول ہیں۔رمضان میں کوئی ختم نہیں ہو گئیں۔پس یہ خوشخبری مومنوں کے لئے ہے اور یہ تقویٰ پر چلنے والوں کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لینے والوں کے لئے ہے کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت پہلے سے بھی بڑھ کر وسیع کر دی ہے۔پس اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی کوشش کرو۔اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔اس حق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔سب پرانے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔(صحيح البخاری کتاب الايمان باب صوم رمضان احتسابا من الايمان حديث 38) اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کے اظہار کا ایک اور نظارہ کہ تم ایک کوشش کرتے ہو میں کئی گنا بڑھ کر تمہیں دے دیتا ہوں۔کس کس طرح سے اس کی رحمانیت اور رحمیت اور رحمت کا اظہار ہو رہا ہے۔پس