خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 259

خطبات مسرور جلد 16 259 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جون 2018 سزا کا دور جو ہے یہ بھی ایک لحاظ سے رحمت ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ جزا سزا کے دن کا مالک بھی ہے۔اس لئے وہ بظاہر ہمیں گناہگار نظر آنے والے لوگوں کو اپنی رحمت اور بخشش کی چادر میں لپیٹ کر بغیر سزا کے جانے دے سکتا ہے۔لیکن اس نے ہمیں نیکیوں کے راستوں پر چلنے کی ترغیب دلاتے ہوئے یہ ضرور فرما دیا کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور ان پر میں ضرور اپنی رحمت کروں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں جو زکوۃ دیتے ہیں اور ان لوگوں پر جو میرے نشانوں پر ایمان لاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بطور حق کے ان لوگوں کو جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں، جو زکوۃ دینے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر ان کا حق ادا کرتے ہوئے اور یقین کے ساتھ عمل کرنے والے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی آیات پر مکمل ایمان رکھنے والے ہیں، ضرور اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹوں گا۔پھر ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ۔(الاعراف:57) کہ اللہ کی رحمت یقیناً محسنوں کے قریب ہے۔محسن وہ ہیں جو تمام شرائط کے ساتھ اپنے کام کو پورا کرتے ہیں۔پس جو تقویٰ کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہے ، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بجالانے والا ہے، اللہ تعالیٰ کے نشانات پر بر مکمل ایمان رکھنے والا ہے، اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت پہنچے گی۔پس ایک انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے، تقویٰ پر چلنے اور ایمان میں کامل ہونے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے تبھی وہ مومن کہلا سکتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے فیض پانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے احکامات پر ان کا حق ادا کرتے ہوئے عمل کرنے والوں کے قریب ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے تو اپنے پر فرض کر لیا ہے، ان کے لئے لکھ دیا ہے کہ اگر تم یہ کرو گے تو میری رحمت کی وسعت تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔کتنا رحیم و کریم ہے ہمارا خدا۔ہم تو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔بندہ کس طرح اپنے مالک پر کوئی حق جتا سکتا ہے۔لیکن وہ زمین و آسمان کا مالک کہتا ہے کہ اگر تم تقویٰ پر چلو گے ، میرے احکامات پر عمل کرتے ہوئے میرے نشانوں پر ایمان لاؤ گے تو میری رحمت کے یقیناً حقدار بن جاؤ گے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلی چیز تقوی بیان فرمائی ہے اور اصل میں اگر تقویٰ کا صحیح ادراک ہو جائے تو باقی نیکیاں اور ایمان میں کامل ہونا اس کے اندر ہی آجاتا ہے۔اس بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا یعنی انہیں صحیح طرح بجالانا اور سر سے پیر تک جتنے قوی اور اعضاء ہیں " انسان کے جتنے بھی اعضاء ہیں۔انسان کے قومی ہیں۔طاقتیں ہیں " جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا " صحیح طرح ان کا استعمال کرنا جو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات ہیں ان کے مطابق ادا کرنا ان کا حق ادا کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا۔"غلط استعمال سے اس کو روکنا اور شیطان جن