خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 258
خطبات مسرور جلد 16 258 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08جون2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 08 جون 2018ء بمطابق 08 احسان 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ قَالَ عَذَابِي أُصِيْبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِأَيْتِنَا يُؤْمِنُوْنَ (الاعراف:157) اس آیت کا ترجمہ ہے : اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی حسنہ لکھ دے اور آخرت میں بھی۔یقینا ہم تیری طرف تو بہ کرتے ہوئے آگئے ہیں۔اس نے کہا میر اعذاب وہ ہے کہ جس پر میں چاہوں اس پر میں وارد کر دیتا ہوں اور میری رحمت وہ ہے کہ ہر چیز پر حاوی ہے۔پس میں اس رحمت کو ان لوگوں کے لئے واجب کر دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔رمضان کا مہینہ اور رحمت الہی: اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر عجیب احسان ہیں جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔رحمت کا مطلب ہے نرم ہونا، مہربان ہونا ، رحم کا ابھرنا۔یعنی اللہ تعالیٰ کا بندوں سے نرمی اور صرفِ نظر کا سلوک ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر مہربانی کا سلوک ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔اللہ تعالیٰ کار حم کا جذبہ اور یہ سلوک اتنا بڑھا ہوا ہے کہ جو ہر چیز پر حاوی ہے۔اس کی رحمت میں رحمانیت اور رحیمیت شامل ہیں۔یہ اس کی رحمانیت ہے کہ بن مانگے بھی بیشمار چیزیں دنیا میں انسان کے لئے پیدا کی ہیں۔اور رحیمیت کا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے والوں اس کے احکام پر عمل کرنے والوں اس کے آگے جھک کر مانگنے والوں پر اظہار کرتا ہے۔تو یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندوں کو عذاب دینا میری غرض نہیں ہے۔بعضوں کو بڑی غلط فہمی ہوتی ہے کہ انسان کو اگر عذاب دینا ہے ، سزا دینی ہے تو پیدا کیوں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری غرض یہ نہیں ہے۔ہاں وہ لوگ میرے عذاب اور سزا کے مورد بنتے ہیں جو اپنے غلط عملوں کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔لیکن میرا یہ عذاب بھی عارضی چیز ہے اور اصلاح اور احساس کے لئے ہے۔حتی کہ ایک وقت آئے گا کہ دوزخ والے بھی میری وسیع رحمت سے حصہ لیں گے اور ان کا عذاب بھی ختم ہو جائے گا۔دوزخ کی سزا بھی ان کے غلط عملوں کی وجہ سے ملے گی اور پھر وہ ایک اصلاح کا ذریعہ بن جائے گی۔تو اگر دیکھا جائے تو یہ سزا بھی اصلاح ہے۔یہ