خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 257

خطبات مسرور جلد 16 257 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جون 2018 موجودہ پر نسپل مبشر ایاز صاحب ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ " ہم جامعہ میں اکٹھے رہے۔بہت ہی نیک طبیعت تھی۔خاموش طبع تھے۔جامعہ کے ان طلباء میں ان کا شمار ہوتا تھا جنہیں عبادت اور ریاضت کا خاص شوق تھا۔اطاعت گزاری ان کا خاص اور قابل ذکر وصف تھا۔کہتے ہیں کہ مجھے نقیب اور زعیم ہونے کی وجہ سے ان سے کئی بار واسطہ پڑا۔بہت ہی عاجز مزاج اور مطیع اور فرمانبر دار پایا۔فٹبال کے بڑے شوقین تھے۔ٹیم کے ایک اہم ممبر سمجھے جاتے تھے اور خاص طور پر ان کو شامل کیا جاتا تھا۔" جامعہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کا باقاعدہ تقر ر یوگنڈا میں بطور مبلغ 1988ء میں ہوا جہاں انہوں نے کئی جماعتوں میں بطور مبلغ کام کیا۔2007ء میں موصوف دو یوگنڈن مبلغین کے ساتھ پاکستان بھی گئے جہاں انہیں لو گنڈ ا زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ کی نظر ثانی کا کام مکمل کرنے کی توفیق ملی اور تین ماہ کے اندر انہوں نے یہ کام مکمل کر لیا۔جامعہ میں تو شاید علمی لحاظ سے کمزور ہوں گے لیکن بعد میں علمی لحاظ سے بھی بڑے آگے نکلے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنا علم بہت بڑھایا، اضافہ کیا۔مرحوم کو تبلیغ کا بڑا شوق تھا اور ان کی تبلیغ سے بڑی تعداد نے احمدیت قبول کی۔سائیکل پر ہی بہت لمبے لمبے تبلیغی سفر کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ وہ تبلیغ کے لئے نکلے ہوئے تھے کہ پیچھے سے ان کی بیوی کی وفات ہو گئی۔رابطہ کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔اور جب تبلیغی سفر سے واپس آئے تو پتہ چلا کہ بیوی فوت ہو گئی ہے اور اس کی تدفین بھی ہو چکی ہے۔ساری زندگی نہایت سادگی کے ساتھ خدمت دین میں مصروف رہتے ہوئے گزاری۔بہت نرم دل، ہمدرد اور شفیق انسان تھے۔غریبوں اور مسکینوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔خلافت کے بہت شیدائی تھے۔خلیفہ وقت کا ہر حکم ماناضروری سمجھتے تھے۔عموماً سارے افریقین ہی لیکن افریقن مبلغین خاص طور پر واقفین زندگی میں نے دیکھا ہے کہ خلافت کے ساتھ ان کا خاص تعلق ہے۔امیر صاحب یوگنڈا محمد علی کائرے صاحب لکھتے ہیں کہ مرحوم ایک مثالی مربی تھے۔نہایت نیک دل اور دعوت الی اللہ کرنے والے اور دین کی خدمت بجالانے والے انسان تھے۔بہت سی مشکلات کے باوجود کبھی شکوہ نہ کیا بلکہ ہر ہر طرح سے خدمت دین میں لگے رہے۔پہلی بیوی کی وفات کے بعد انہوں نے دوسری شادی کی اور کچھ عرصہ بعد تیسری شادی بھی کی۔ان کی ایک بیوی لکھتی ہیں کہ میں نے انہیں ساری زندگی بہت ہی پیار کرنے والا، نرم دل اور ہر حال میں پر سکون اور خدا کا شکر بجالانے والا انسان پایا۔ان کی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ ہمارے والد بہت شفیق اور بردبار انسان تھے۔ہمیشہ ہماری ضرورتوں کا خیال رکھتے اور دین پر عمل پیرا رہنے کا درس دیتے رہے۔مرحوم نے اپنے پسماندگان میں دو بیویاں اور نو بچے چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔ان کے ساتھ مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کی نسلوں کو بھی ہمیشہ جماعت اور خلافت سے وابستہ رکھے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 جون 2018 ء تا 28 جون 2018ء جلد 25 شمارہ 25 صفحہ 05 تا08)