خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 256
خطبات مسرور جلد 16 256 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جون 2018 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی ایک تصنیف میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس خدائے محسن کا شکر ہے جو احسان کرنے والا اور غموں کو دور کرنے والا ہے اور اس کے رسول پر درود اور سلام جو انس اور جن کا امام اور پاک دل اور بہشت کی طرف کھینچنے والا ہے۔اور اس کے ان اصحاب پر سلام جو ایمان کے چشموں کی طرف پیاسے کی طرح دوڑے اور گمراہی کی اندھیری راتوں میں علمی اور عملی کمال سے نور الحق حصہ دوم ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 188) روشن کئے گئے۔" پھر ایک جگہ آپ صحابہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ "جو دن کے میدانوں کے شیر اور راتوں کے راہب ہیں اور دین کے ستارے ہیں۔" راتوں کے راہب ہونے کا مطلب ہے راتوں میں کہ عبادت کرنے والے۔اور دین کے ستارے ہیں۔"خدا کی خوشنودی ان سب کے شامل حال ہے۔" نجم الهدی، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 17) اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی علمی اور عملی حالتوں کو بہتر کرنے اور راتوں کی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جمعہ کے بعد میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرم اسماعیل مالا گالا صاحب مبلغ یوگنڈا کا ہے۔یہ 25 مئی کو نماز جمعہ سے قبل دل کی تکلیف کی وجہ سے ان کو دل کا حملہ ہوا۔اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے 64 سال ان کی عمر تھی۔اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ۔اسماعیل مالا گالا صاحب 1954ء میں مکونو ڈسٹرکٹ یوگنڈا میں پیدا ہوئے۔ان کے والد اور والدہ دونوں عیسائی تھے لہذا یہ خود بھی پیدائشی طور پر عیسائی تھے۔مالا گالا صاحب ایک احمدی دوست حاجی شعیب نصیر اصاحب کے برادر نسبتی تھے اس لئے ان کا حاجی شعیب صاحب کے گھر آنا جانا تھا۔حاجی شعیب صاحب کے ذریعہ ہی اسلام میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ایک لمبا عرصہ سوال و جواب کا سلسلہ چلتا رہا۔اس کے بعد آہستہ آہستہ ان پر اسلام کی سچائی روشن ہونا شروع ہوئی اور آخر 1978ء میں یہ بیعت کر کے اسلام احمدیت میں داخل ہو گئے۔جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو حاجی شعیب نصیر اصاحب سے ذکر کیا کہ میری بچپن سے یہ خواہش تھی کہ میں عیسائی پادری بنوں۔اب چونکہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو کیا میں اسلام کی خدمت کر سکتا ہوں ؟ اس پر انہیں بتایا گیا کہ آپ اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کر سکتے ہیں۔اس وقت محمد علی کائرے صاحب ( جو اس وقت یو گنڈا کے امیر جماعت ہیں) پاکستان سے جامعہ احمدیہ کی تعلیم مکمل کر کے یوگنڈا پہنچے تھے۔چنانچہ انہوں نے 1980ء میں مالا گالا صاحب کو دیگر پانچ خدام کے ساتھ پاکستان بھجوا دیا۔موصوف دسمبر 1980ء میں جامعہ احمد یہ ربوہ میں فصل خاص میں داخل ہوئے اور یکم مارچ 1988ء کو تعلیم مکمل کی۔جامعہ کے عرصہ تعلیم کے حوالے سے اس وقت جامعہ کے پرنسپل سید میر محمود احمد ناصر صاحب نے اپنے ریمارکس میں ان کے بارے میں لکھا کہ " علمی لحاظ سے کمزور ہیں لیکن اچھے متعاون اور اطاعت گزار طالبعلم رہے۔منکسر المزاج اور عبادت گزار تھے۔بزرگوں سے ملاقات اور انہیں دعا کا کہنا ان کا شعار تھا۔" موصوف نے نہایت محنت کے ساتھ جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی اور 1984ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو پاکستان سے ہجرت کرنا پڑی تو اس وقت مخصوص حالات میں بڑی خوش اسلوبی اور بہادری سے یہ بھی ڈیوٹیاں دینے والوں میں شامل تھے۔