خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 255
خطبات مسرور جلد 16 255 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جون 2018 حضرت عامر ، حضرت ایاس نے اکٹھے دارار تم میں اسلام قبول کیا تھا اور ان چاروں بھائیوں نے دارار تم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن بگیر اور حضرت زید بن دشیہ کے در میان مواخات قائم فرمائی۔آپ غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں موجود تھے اور رجمیع کا واقعہ جو پہلے بیان ہوا ہے جہاں دھوکے سے دس مسلمانوں کو مارا گیا تھا وہاں آپ بھی شہید ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 297 عاقل بن ابی البکیر ، خالد بن ابى البكير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر سے پہلے ایک سریہ عبد اللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں قریش کے قافلہ کے لئے روانہ فرمایا اس میں حضرت خالد بن بگیر بھی شامل تھے۔آپ صفر 4 ہجری کو 34 سال کی عمر میں جنگ رجیع میں عاصم بن ثابت اور مرید بن ابی مرید غنوی کے ساتھ قبائل عضل و قارہ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 647 خالد بن بکیر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) اس بارہ میں ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب قبیلہ عضل اور قارہ کے لوگ ان صحابہ کو لے کر مقام رجیع میں پہنچے جو قبیلہ ھذیل کے ایک چشمہ کا نام ہے۔رجیع جو جگہ ہے یہ جو قبیلہ ھذیل کے ایک چشمہ کا نام ہے اور حجاز کے کنارے پر واقعہ ہے تو ان لوگوں نے اصحاب کے ساتھ غداری کی۔یعنی جو لوگ لے کر گئے تھے انہوں نے صحابہ کے ساتھ غداری کی۔دھو کہ دیا اور قبیلہ ھذیل کو ان کے خلاف بھڑ کا دیا۔صحابہ اس وقت اپنے خیمہ میں ہی تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ چاروں طرف سے لوگ تلواریں لئے چلے آرہے ہیں۔یہ بھی دلیرانہ جنگ کے لئے تیار ہو گئے۔ان لوگوں نے ( یعنی کا فروں نے ) کہا واللہ! ہم تم کو قتل نہیں کریں گے۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ تم کو پکڑ کر مکہ والوں کے پاس لے جائیں گے اور ان سے تمہارے معاوضہ میں کچھ لے لیں گے۔حضرت مرید بن ابی مرتد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خالد بن نگیر نے کہا کہ خدا کی قسم ! ہم مشرک کے عہد میں داخل نہیں ہوتے۔آخر یہ تینوں اس قدر لڑے کہ شہید ہو گئے۔(سیرت ابن هشام صفحه 591-592 ذكر يوم الرجيع فى سنة ثلاث مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) حضرت حسان بن ثابت نے ان لوگوں کے بارے میں اپنے ایک شعر میں کہا ہے کہ الا ليتنى فِيْهَا شَهِدْتُ ابْنَ طَارِقٍ فَدَا فَعْتُ عَنْ حِيَى خُبَيْبٍ وَ عَاصِمٍ وَزَيْدًا وَمَا تُغْنِي الْآمَانِي وَمَرْثَدَا وَكَانَ شِفَاءٌ لَوْ تَدَارَكْتُ خَالِدًا (اسد الغابه جلد 1 صفحه 647 خالد بن بكير مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) کہ کاش میں اس ( واقعہ رجمیع) میں ابن طارق اور زید اور مرید کے ساتھ ہو تا۔اگر چہ آرزوئیں کچھ کام نہیں آتیں۔تو میں اپنے دوست خُبیب اور عاصم کو بچاتا اور اگر میں خالد کو پالیتا تو وہ بھی بچ جاتا۔تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دین کی حفاظت کے لئے ، اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے قربانیاں دیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنے۔