خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 254
خطبات مسرور جلد 16 طور پر 254 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01جون2018 معلوم کر کے وہی پارٹی جو خبر رسانی کے لئے تیار کی گئی تھی ان کے ساتھ روانہ فرما دی۔لیکن دراصل جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ لوگ جھوٹے تھے اور بنو لحیان کی انگیخت پر مدینہ میں آئے تھے جنہوں نے اپنے رئیس سفیان بن خالد کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے یہ چال چلی تھی کہ اس بہانے سے مسلمان مدینہ سے نکلیں تو ان پر حملہ کر دیا جائے اور بنو لحیان نے اس خدمت کے معاوضہ میں عضل اور قارہ کے لوگوں کے لئے بہت سے اونٹ انعام کے ر مقرر کئے تھے۔جب عضل اور قارہ کے یہ غدار لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو انہوں نے بنو لحیان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھجوا دی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آرہے ہیں تم آجاؤ۔جس پر قبیلہ بنو لحیان کے دوسو نوجوان جن میں سے ایک سو تیر انداز تھے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور مقام رجیع میں (رجمیع ایک جگہ ہے) ان کو دبایا۔دس آدمی دو سو سپاہیوں کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے۔لیکن مسلمانوں کو ہتھیار ڈالنے کی تعلیم نہیں دی گئی تھی۔" اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں جو تمہیں گھیر لیا جائے تو پھر یہی حکم ہے کہ جنگ کرو۔" فوراً یہ صحابی ایک قریب کے ٹیلے پر چڑھ کر مقابلے کے واسطے تیار ہو گئے۔کفار نے جن کے نزدیک دھو کہ دینا کوئی معیوب فعل نہیں تھا ان کو آواز دی کہ تم پہاڑی پر سے نیچے اتر آؤ ہم تم سے پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔عاصم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہمیں تمہارے عہد و پیمان پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے اور پھر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا کہ اے خدا تو ہماری حالت دیکھ رہا ہے۔اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔غرض عاصم اور ان کے ساتھیوں نے مقابلہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔جب سات صحابہ مارے گئے اور صرف خُبیب بن عدی اور زید بن دشتہ اور ایک اور صحابی باقی رہ گئے تو کفار نے جن کی اصل خواہش ان لوگوں کو زندہ پکڑنے کی تھی پھر آواز دے کر کہا کہ اب بھی نیچے اتر آؤ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔اب کی دفعہ یہ سادہ لوح مسلمان ان کے پھندے میں آکر نیچے اتر آئے مگر نیچے اترتے ہی کفار نے ان کو اپنی تیر کمانوں کی تندیوں سے جکڑ کر باندھ لیا اور اس پر خُبیب اور زید کے ساتھی سے جن کا نام تاریخ میں عبد اللہ بن طارق مذکور ہوا ہے صبر نہ ہو سکا اور انہوں نے پکار کر کہا کہ یہ تمہاری پہلی بد عہدی ہے اور نامعلوم تم آگے چل کر کیا کرو گے۔عبد اللہ نے ان کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا جس پر کفار تھوڑی دور تک عبد اللہ کو گھسیٹتے ہوئے، زدو کوب کرتے ہوئے لے گئے اور پھر انہیں قتل کر کے وہیں پھینک دیا اور چونکہ ان کا انتقام پورا ہو چکا تھا وہ قریش کو خوش کرنے کے لئے نیز روپے کی لالچ میں حبیب اور زید کو ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کر انہیں قریش کے ہاتھ فروخت کر دیا۔چنانچہ حبیب کو تو حارث بن عابر بن نوفل کے لڑکوں نے خرید لیا کیونکہ حبیب نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا اور زید کو صفوان بن امیہ نے خرید لیا۔" اور یہ بھی پھر آخر میں شہید کر دیئے گئے تھے۔(سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 513-514) پھر بدری صحابہ میں ایک ذکر حضرت خالد بن نگیر کا ہے۔حضرت خالد بن نگیر حضرت عاقل