خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 253 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 253

خطبات مسرور جلد 16 253 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01جون2018 آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے اور قبیلہ بنو بیاضہ کے محلہ سے گزرے تو حضرت زیاد نے اھلا و سھلا کہا اور قیام کے لئے اپنا مکان پیش کیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو آزاد چھوڑ دو یہ خود منزل تلاش کرلے گی۔محرم نو ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لئے الگ الگ محصلین مقرر فرمائے تو حضرت زیاد کو حضر موت کے علاقے کا محصل مقرر فرمایا۔حضرت عمر کے دور تک آپ اسی خدمت پر مامور رہے۔اس منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ نے کوفہ میں سکونت اختیار کرلی اور وہیں اکتالیس ہجری میں وفات پائی۔(سرور کائنات کے پچاس صحابہ از طالب الہاشمی صفحہ 557 تا559 مطبوعہ میٹرو پر نٹر زلاہور 1985ء) تاریخ میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں جب فتنہ ارتداد نے زور پکڑا اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تو اشعث بن قیس الکندی نے بھی ارتداد اختیار کیا۔حضرت زیاد کو اس کی سرکوبی کے لئے مقرر کیا گیا۔جب آپ نے اس پر حملہ کیا تو اس نے قلعہ نخیر میں پناہ لے لی۔حضرت زیاد نے اس کا نہایت سختی سے محاصرہ کیا یہاں تک کہ وہ تنگ آگیا اور اس نے پیغام بھیجا کہ مجھے اور نو اور آدمیوں کو امان دے دیں تو قلعہ کا دروازہ کھول دوں گا۔حضرت زیاد نے کہا معاہدہ لکھ کر لے آؤ میں اس پر مہر ثبت کر دوں گا۔اس کے بعد انہوں نے دروازہ کھولا۔بعد میں جب معاہدہ دیکھا گیا تو باقی نو آدمیوں کے نام تو لکھے ہوئے تھے مگر اشعث اپنا نام لکھنا بھول گیا تھا۔چنانچہ اسے دوسرے قیدیوں کے ساتھ مدینہ منورہ بھجوا دیا گیا۔(امتاع الاسماع جلد 14 صفحه 254-255 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت مكتب بن عبید تھے۔آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی آپ کے بھتیجے ائیر بن عروہ آپ کے وارث ہوئے۔حضرت معیب بن عبید غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے اور انہوں نے یوم الرجیع میں شہادت پائی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 240 ومن حلفاء بني ظفر مطبوعه دار احياء التراث العربى بيروت 1996ء) رجیع کا جو واقعہ ہے کہ اس میں دس مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔اس واقعہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی لکھا ہے کہ " یہ دن مسلمانوں کے لئے سخت خطرے کے دن تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو چاروں طرف سے متوشش خبریں آرہی تھیں۔لیکن سب سے زیادہ خطرہ آپ کو قریش مکہ کی طرف سے تھا جو جنگ اُحد کی وجہ سے بہت دلیر اور شوخ ہو رہے تھے۔اس خطرے کو محسوس کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ صفر چار ہجری میں اپنے دس صحابیوں کی ایک پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ مکہ کے قریب جا کر قریش کے حالات دریافت کریں اور ان کی کارروائیوں اور ارادوں سے آپ کو اطلاع دیں لیکن ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عضل اور قارہ کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں۔آپ چند آدمی ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں جو ہمیں مسلمان بنائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ خواہش