خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 252 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 252

خطبات مسرور جلد 16 252 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جون 2018 روایت ہے کہ اُحد کے دن حضرت عباس بن عبادۃ اونچی آواز سے کہہ رہے تھے کہ اے مسلمانوں کے گر وہ ! اللہ اور اپنے نبی سے جڑے رہو۔جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے یہ اپنے نبی کی نافرمانی سے پہنچی ہے۔وہ تمہیں مدد کا وعدہ دیتا تھا لیکن تم نے صبر نہیں کیا۔پھر حضرت عباس بن عبادۃ نے اپنا خود اور اپنی زرہ اتاری اور حضرت خارجہ بن زید سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس کی ضرورت ہے ؟ خارجہ نے کہا نہیں جس چیز کی تمہیں آرزو ہے وہی میں بھی چاہتا ہوں۔پھر وہ سب دشمن سے بھڑ گئے۔عباس بن عبادہ کہتے تھے کہ ہمارے دیکھتے ہوئے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گزند پہنچا، کوئی تکلیف پہنچی تو ہمارا اپنے رب کے حضور کیا عذر ہو گا؟ اور حضرت خارجہ یہ کہتے تھے کہ اپنے رب کے حضور ہمارے پاس نہ تو کوئی عذر ہو گا اور نہ ہی کوئی دلیل۔حضرت عباس بن عبادۃ کو سفیان بن عبد شمس سلمی نے شہید کیا اور خارجہ بن زید کو تیروں کی وجہ سے جسم پر دس سے زائد زخم لگے۔(کتاب المغازی جلد 1 صفحه 2277-228 باب غزوہ احد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2004ء) غزوہ احد کے دن حضرت مالک بن دخشم، حضرت خارجہ بن زید کے پاس سے گزرے۔حضرت خارجہ زخموں سے چور بیٹھے ہوئے تھے۔ان کو تیرہ کے قریب مہلک زخم آئے تھے۔حضرت مالک نے ان سے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیئے گئے ہیں ؟ حضرت خارجہ نے کہا کہ اگر آپ کو شہید کر دیا گیا ہے تو یقینا اللہ زندہ ہے اور وہ نہیں مرے گا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام پہنچا دیا۔تم بھی اپنے دین کے لئے قتال کرو۔(كتاب المغازی جلد 1 صفحه 243 باب غزوه احد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2004ء) حضرت خارجہ کے دو بچے تھے جن میں سے ایک حضرت زید بن خارجہ تھے جنہوں نے حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں وفات پائی۔حضرت خارجہ بن زید کی دوسری اولاد حضرت حبیبہ بنت خارجہ تھیں۔ان کی شادی حضرت ابو بکر صدیق سے ہوئی تھی۔حضرت ابو بکر صدیق کی جب وفات ہوئی تو ان کی اہلیہ حضرت حبیبہ امید سے تھیں۔ابو بکر نے فرمایا تھا کہ مجھے ان کے ہاں بیٹی کی توقع ہے۔چنانچہ ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئیں۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 640-641 خارجه بن زيد مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت زیاد بن لبید تھے۔ان کی والدہ کا نام عمرہ بنت عبید بن مطروف تھا۔حضرت زیاد کا ایک بیٹا عبد اللہ تھا۔عقبہ ثانیہ میں ستر اصحاب کے ساتھ آپ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔اسلام قبول کرنے کے بعد جب مدینہ واپس آئے تو انہوں نے آتے ہی اپنے قبیلہ بنو بیاضہ کے بت توڑ دیئے جو بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے۔پھر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ چلے گئے اور وہیں مقیم رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔اس لئے حضرت زیاد کو مہاجر انصاری کہا جاتا ہے۔مہاجر بھی ہوئے اور انصاری بھی تھے۔حضرت زیاد غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 302 زياد بن لبيد مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء)