خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 251

خطبات مسرور جلد 16 251 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01جون2018 حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کی خلافت میں حضرت خالد بن ولید کے ساتھ حضرت عُکاشہ مرتدین کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوئے۔عیسی بن عمیلہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید لوگوں کے مقابلے پر روانہ ہوتے وقت اگر اذان سنتے تو حملہ نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو حملہ کر دیتے۔جب آپ رضی اللہ عنہ اس قوم کی طرف پہنچے جو بُز اخہ مقام پر تھی تو آپ نے حضرت عُکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم کو مخبر بنا کر بھیجا کہ دشمن کی خبر لائیں۔وہ دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔حضرت عکاشہ کے گھوڑے کا نام الرزام تھا اور حضرت ثابت کے گھوڑے کا نام المجر۔ان دونوں کا سامنا طلیحہ اور اس کے بھائی سلمہ سے ہواجو مسلمانوں کی مخبری کرنے کے لئے لشکر سے آگے آئے ہوئے تھے۔طلیحہ کا سامنا حضرت عکاشہ سے ہوا اور سلمہ کا سامنا حضرت ثابت سے ہوا اور ان دونوں بھائیوں نے ان دونوں اصحاب کو شہید کر دیا۔ابو واقد اللیثی بیان کرتے ہیں کہ ہم دوسو سوار لشکر کے آگے آگے چلنے والے تھے ہم ان مقتولوں، حضرت ثابت اور حضرت عکاشہ کے پاس کھڑے رہے یہانتک کہ حضرت خالد آئے اور ان کے حکم سے ہم نے حضرت ثابت اور حضرت عکاشہ کو ان کے خون آلود کپڑوں میں ہی دفن کر دیا۔یہ واقعہ 12 ہجری کا ہے۔اس طرح ان کی شہادت ہوئی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 245 ثابت بن اقرم مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) حضرت خارجہ بن زید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تھے۔حضرت خارجہ بن زید کا تعلق خزرج کے خاندان اغ“ سے تھا۔حضرت خارجہ کی بیٹی حضرت حبیبہ بنت خارجہ حضرت ابو بکر صدیق کی اہلیہ تھیں جن کے بطن سے حضرت ابو بکر صدیق کی صاحبزادی حضرت اُم کلثوم پیدا ہوئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خارجہ بن زید اور حضرت ابو بکر صدیق کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔رئیس قبیلہ تھے اور ان کو کبار صحابہ میں شامل کیا جاتا تھا۔انہوں نے عقبہ میں بیعت کی تھی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 271 ومن بني الحارث۔۔۔خارجه بن زید مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) ہجرت مدینہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت خارجہ بن زید کے گھر قیام کیا تھا۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 640 خارجه بن زيد مطبوعه دار الفکر بيروت لبنان 2003ء) یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔حضرت خارجہ نے غزوہ اُحد میں بڑی بہادری اور جوانمردی سے لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا۔نیزوں کی زد میں آگئے اور آپ کو تیرہ سے زائد زخم لگے۔آپ زخموں سے نڈھال پڑے تھے کہ پاس سے صفوان بن امیہ گزرا۔اس نے انہیں پہچان کر حملہ کر کے شہید کر دیا۔پھر ان کا مثلہ بھی کیا اور کہا کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے بدر میں ابو علی کو قتل کیا تھا یعنی میرے باپ اُمیہ بن خلف کو۔اب مجھے موقع ملا ہے کہ ان اصحاب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) میں سے بہترین لوگوں کو قتل کروں اور اپنا دل ٹھنڈا کروں۔اس نے حضرت ابن قوقل، حضرت خارجہ بن زید اور حضرت اوس بن ارقم کو شہید کیا۔حضرت خارجہ اور حضرت سعد بن ربیع جو کہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔الاستيعاب جلد 2 صفحه 3-4 خارجه بن زید مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء)