خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 17
خطبات مسرور جلد 16 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جنوری 2018 ہی نہ دے دی ہو اور کہیں آخری زندگی میں جو اجر ہے، اخروی زندگی کے جو اجر ہیں ان سے میں کہیں محروم نہ کر دیا جاؤں۔ان کی آخری بیماری میں جب صحابہ ان کی عیادت کے لئے گئے اور انہیں یہ تسلی دی کہ لگتا ہے آپ بھی اپنے بزرگ صحابہ سے ملنے والے ہیں تو رو پڑے۔اور ساتھ ہی یہ کہنے لگے کہ یہ نہ سمجھنا کہ میں موت کے ڈر سے رویا ہوں بلکہ اس لئے رویا ہوں کہ جن صحابہ کا تم نے مجھے بھائی کہا ہے ان کا مقام بہت بلند تھا۔پتا نہیں میں ان کا بھائی ہونے کا اہل بھی ہوں یا نہیں۔کہنے لگے وہ لوگ جو ہم سے پہلے گزر گئے انہوں نے دنیاوی مال و متاع جس سے ہم فیض اٹھا رہے ہیں اس سے فیض نہیں اٹھایا۔اللہ تعالیٰ کی خشیت اور تقویٰ کا یہ مقام تھا کہ اپنے آپ کو انتہائی کمزور سمجھتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا خوف تھا، فکر تھی کہ مرنے کے بعد خدا تعالیٰ راضی بھی ہوتا ہے کہ نہیں اور یہی دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 88-89 خباب بن الارث مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996ء) آپ کی قربانی اور دین کیلئے خدمت کسی سے کم نہیں تھی۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ تھے تو حضرت علیؓ نے ان کا جنازہ پڑھایا۔اور ان کے بارے میں تاریخی کلمات کہے۔ان الفاظ سے ہی حضرت خباب کے مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت خباب پر رحم کرے۔انہوں نے نہایت محبت اور رغبت سے اسلام قبول کیا اور پھر ہجرت کی توفیق پائی۔پھر جو زندگی انہوں نے گزاری وہ ایک مجاہد کی زندگی تھی۔وہ شدید ابتلاؤں میں سے گزرے اور انتہائی صبر اور استقامت کا نمونہ دکھایا۔حضرت علی نے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اجر ضائع نہیں کرتا جو نیک اعمال بجالانے والے ہوں۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 677 خباب بن الارث مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) حضرت خباب کا جو مقام حضرت عمر کی نظر میں تھا وہ بھی دیکھیں کیسا عظیم تھا۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے حضرت خباب کو بلا کر اپنی مسند پر بٹھایا اور کہا۔خباب! آپ اس لائق ہیں کہ میرے ساتھ اس مسند پر بیٹھیں۔میں نہیں سمجھتا کہ سوائے بلال کے میرے ساتھ اس مسند پر بیٹھنے کا کوئی اور مستحق ہو۔انہوں نے یعنی حضرت بلال نے بھی ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کر کے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں۔حضرت خباب نے عرض کیا کہ یا امیر المؤمنین بیشک بلال بھی حقدار ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ بلال کو مشرکین سے بچانے والے موجود تھے۔چنانچہ حضرت ابو بکر نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا۔لیکن میرا تو کوئی بھی نہیں تھا جو مجھے اس ظلم سے بچاتا۔اور ایک دن ایسا بھی آیا کہ مجھے کافروں نے پکڑ لیا اور آگ میں ڈال دیا اور ایک ظالم نے میرے سینے پر پاؤں رکھ دیا جس سے میرے لئے اس آگ سے نکلنا ممکن نہ رہا۔میری پیٹھ کو ٹلوں پر پڑے پڑے جل گئی۔کو ئلے دہکا کر انہیں اس پہ لٹا دیا۔پھر حضرت خباب نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا اٹھا کر دکھایا جہاں سفید لکیروں کے نشانات پڑے ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ دہکتے کو ئلوں پر لیٹنے کی وجہ سے یہ نشان پڑے ہوئے ہیں۔چربی پگھل گئی تھی۔کھال پگھل گئی تھی۔اس کے بعد یہ سفید کھال نیچے سے نکل آئی۔حضرت خباب جو تھے وہ جنگ بدر اور خندق میں بھی شامل ہوئے۔احد میں بھی شامل دئے۔اس سب کے باوجو د وفات کے وقت فکر ہے کہ پتا نہیں اللہ تعالیٰ راضی بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ہو