خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 250

خطبات مسرور جلد 16 250 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جون 2018 کرے گا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لے۔پھر حضرت فاطمہ نے کہا کہ اے بلال حسن اور حسین سے کہو کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں کہ وہ ان دونوں سے بدلہ لے لے اور وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لینے دیں۔پس حضرت بلال مسجد آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑی پکڑا دی اور آپ نے وہ چھڑی عُکاشہ کو پکڑائی۔جب حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے یہ منظر دیکھا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے اور کہا اے عکاشہ !ہم تمہارے سامنے کھڑے ہیں۔ہم سے بدلہ لے لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نہ کہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: اے ابو بکر اور عمر رک جاؤ۔اللہ تم دونوں کے مقام کو جانتا ہے۔اس کے بعد حضرت علی کھڑے ہوئے اور کہا اے عکاشہ ! میں نے اپنی ساری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری ہے اور میر ادل گوارا نہیں کرتا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارو۔پس یہ میرا جسم ہے میرے سے بدلہ لے لو اور بیشک مجھے سو بار مار و مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لو۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی بیٹھ جاؤ۔اللہ تمہاری نیت اور مقام کو جانتا ہے۔اس کے بعد حضرت حسن اور حسین کھڑے ہوئے اور کہا اے عکاشہ ! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں اور ہم سے بدلہ لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لینے کے جیسا ہی ہے۔آپ نے ان دونوں سے فرمایا: اے میرے پیارو! بیٹھ جاؤ۔اس کے بعد آپ نے فرمایا اے عکاشہ مارو۔حضرت عکاشہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ نے مجھے مارا تھا تو اس وقت میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر سے کپڑا اٹھایا۔اس پر مسلمان دیوانہ وار رونے لگ گئے اور کہنے لگے کیا عکاشہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے گا؟ مگر جب حضرت عُکاشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کی سفیدی دیکھی تو دیوانہ وار لپک کر آگے بڑھے اور آپ کے بدن کو چومنے لگے اور عرض کی یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس کا دل گوارا کر سکتا ہے کہ وہ آپ سے بدلہ لے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا بدلہ لینا ہے یا معاف کرنا ہے۔اس پر حضرت عُکاشہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں نے معاف کیا اس امید پر کہ اللہ قیامت کے دن مجھے معاف فرما دے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جو جنت میں میر اساتھی دیکھنا چاہتا ہے وہ اس بوڑھے شخص کو دیکھ لے۔پس مسلمان اٹھے اور حضرت عُکاشہ کا ما تھا چومنے لگے اور ان کو مبارکباد دینے لگے کہ تو نے بہت بلند مقام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کو پالیا۔(مجمع الزوائد جلد 8 صفحه 429 تا 431 کتاب علامات النبوة حديث 14253 مطبوعه دار الكتب العلميه بیروت 2001ء) یہ تھے حضرت عکاشہ کہ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی واپسی کی خبریں سنارہے ہیں اور اب پتہ نہیں کبھی موقع ملتا ہے کہ نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں یہ موقع ہے کہ آپ کے جسم کو نہ صرف چوموں بلکہ بوسہ دوں۔